ویمن ٹینس پلیئرز نے ایک بار پھر کمائی میں دیگر ایتھلیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ٹینس اسٹار کوکو گوف سب سے زیادہ کمانے والے ایتھلیٹ بن گئیں۔

ویمن پلیئرز 2025 میں زیادہ کمانے والی ایتھلیٹس کی تفصیلات سامنے آگئیں، امریکی میڈیا کے مطابق ٹینس اسٹار کوکو گوف رواں برس سب سے زیادہ کمانے والے ایتھلیٹ قرار پائیں۔

کوکو گوف نے رواں سال 31 ملین امریکی ڈالرز کمائے، کوکو گوف کو 8 ملین ڈالرز پرائز منی جبکہ 23 ملین ڈالرز اسپانسر شپ اور دیگر معاہدوں سے ملے۔

ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا نے رواں سال 30 ملین ڈالرز کمائے، ارینا سبالنکا کو 15 ملین ڈالرز پرائز منی جبکہ باقی معاہدوں سے ملے۔

اسی طرح ومبلڈن چیمپئن ایگا شویٹک نے 23.

1 ملین ڈالرز کمائے، انہوں نے 10.1 ملین ڈالرز پرائز منی اور 13 ملین ڈالرز معاہدوں سے کمائے۔

امریکی میڈیا کے مطابق کوکو گوف لگاتار تیسرے برس سب سے زیادہ کمانے والی ویمن ایتھلیٹ قرار پائی ہیں۔

اب تک صرف 4 ویمن ایتھلیٹس سال میں 30 ملین ڈالرز کما چکی ہیں، جس میں کوکو گوف، ارینا سبالنکا، نومی اوساکا اور سرینا ولیمز شامل ہیں۔

اسی طرح سب سے زیادہ کمانے والی 15 ایتھلیٹس میں 10 ٹینس پلئیرز شامل ہیں جبکہ 10 زیادہ کمانے والی ایتھلیٹس میں 7 ڈبلیو ٹی اے پلئیرز ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سب سے زیادہ کمانے زیادہ کمانے والی ملین ڈالرز ٹینس اسٹار

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ