امریکا میں غیر ملکیوں کی اسکریننگ مزید سخت، ورک پرمٹ کی مدت 5 سال سے گھٹا کر 18 ماہ کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
امریکا میں غیر ملکیوں کی اسکریننگ مزید سخت، ورک پرمٹ کی مدت 5 سال سے گھٹا کر 18 ماہ کردی گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 شاہ خالد
واشنگٹن :(شاہ خالد ) امریکا میں کام کرنیوالے غیر ملکیوں کی سخت اسکریننگ اور ویٹنگ کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں قانونی تحفظ حاصل کرنے والے تارکینِ وطن، بشمول مہاجرین (Refugees)، پناہ گزینوں (Asylees) اور دیگر کی ورک پرمٹ کی مدت کم کر رہی ہے۔ یہ اقدام امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کی تازہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ نئی پالیسی اُن تارکینِ وطن پر بھی لاگو ہوگی جن کی پناہ (Asylum) یا گرین کارڈ (مستقل رہائش) کی درخواستیں زیرِ التوا ہیں، ایسے کیسز جو اکثر کئی سال تک مکمل نہیں ہو پاتے کیونکہ امیگریشن نظام میں شدید بیک لاگ موجود ہے۔
نئے قواعد کے تحت یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) اب ان تارکینِ وطن کو زیادہ سے زیادہ 18 ماہ کی مدت کے ورک پرمٹ جاری کرے گی، جب کہ موجودہ حد 5 سال تھی۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر ہونے والے حملے کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ورک پرمٹ کی مدت کم کرنے سے ایجنسی کو تارکینِ وطن کی مزید بار بار اسکریننگ اور ویٹنگ کا موقع مل سکے گا۔
اس واقعے کے مبینہ حملہ آور، 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکانوال، ستمبر 2021 میں بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکا آئے تھے، جبکہ ان کی پناہ کی درخواست اپریل 2025 میں منظور ہوئی یعنی اس وقت جب صدر ٹرمپ نے دوسری بار عہدہ سنبھال لیا تھا۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے اپنے بیان میں کہا کہ ورک پرمٹ کی زیادہ سے زیادہ مدت کم کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکا میں کام کرنے کے خواہش مند افراد نہ تو عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بنیں اور نہ ہی کسی انتہا پسند یا امریکا مخالف نظریے کو فروغ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے دارالحکومت میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملہ ایک ایسے تارک وطن نے کیا جسے سابقہ انتظامیہ نے داخل کیا تھا، تو یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ USCIS زیادہ بار بار ویٹنگ کرے۔
اعلامیے کے مطابق یہ نئی پالیسی 5 دسمبر کے بعد جمع ہونے والی ورک پرمٹ درخواستوں اور ان درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی جو اس تاریخ تک زیرِ التوا ہوں گی۔
امیگریشن پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن
ڈی سی میں گزشتہ ہفتے ہونے والی فائرنگ جس میں ایک نیشنل گارڈ اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن پر بڑے پیمانے پر سختیاں شروع کر دی ہیں۔
انتظامیہ نے سیاسی پناہ کی تمام درخواستوں پر کام روک دیا ہے جبکہ تمام افغان شہریوں کی ویزا اور امیگریشن درخواستیں معطل کر دی گئی ، 19 ممالک کے شہریوں کے تمام قانونی امیگریشن کیسز، بشمول شہریت کی تقاریب، روک دی گئی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ’ٹرمپ ٹریول بین‘ کی فہرست 19 سے بڑھا کر 30 ممالک تک کرنے پر غور کر رہی ہے، یہ فیصلہ بھی ڈی سی فائرنگ کے تناظر میں زیرِ غور ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلم لیگ ن کا عابد شیرعلی کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ ،باضابطہ طور پر ٹکٹ جاری مسلم لیگ ن کا عابد شیرعلی کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ ،باضابطہ طور پر ٹکٹ جاری ملاقات کا روز،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت کسی کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہ ملی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے ریاست اور قومی ہیروز کیخلاف ایوان میں ہرزہ سرائی پر پابندی عائد کردی اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہر متاثرین اسلام آباد الائنس کا احتجاج، بڑی تعداد میں متاثرین کی شرکت پاکستان یہاں سے اب اونچی اڑان کی طرف جائیگا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر مملکت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دیدی، نوٹیفکیشن جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ورک پرمٹ کی مدت امریکا میں
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔