عالمی تنازعات برطانوی شہریوں کو اسلام قبول کرنے کی طرف مائل کر رہے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عالمی تنازعات اور بین الاقوامی جنگیں برطانوی شہریوں میں اسلام قبول کرنے کے رجحان کو بڑھا رہی ہیں، برطانیہ میں حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں افراد نے مذہب تبدیل کیا اور ان میں سب سے عام وجہ عالمی تنازعات رہی۔
تحقیق کے مطابق اسرائیل غزہ تنازع کے بعد برطانیہ میں اسلام اختیار کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اسلام قبول کرنے والے افراد عموماً زندگی میں مقصد اور روحانی سکون کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں مذہب تبدیل کرنے والے افراد کے محرکات کا سروے بھی شامل تھا۔ اس کے نتائج کے مطابق اسلام قبول کرنے والوں میں 20 فیصد افراد نے عالمی تنازعات کو وجہ قرار دیا جبکہ 18 فیصد افراد ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھے۔ عیسائیت اختیار کرنے والوں میں 31 فیصد افراد نے کسی عزیز کی وفات یا صدمے کو وجہ قرار دیا اور 23 فیصد افراد ذہنی دباؤ کے تحت مذہب تبدیل کر رہے تھے، دیگر مذاہب جیسے ہندو، بدھ مت اور سکھ میں 35 فیصد افراد ذہنی صحت کے مسائل اور 16 فیصد عالمی تنازعات کی وجہ سے مذہب بدلنے پر مجبور ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں مذہب تبدیل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، انگلینڈ اور ویلز میں عیسائی آبادی کا حصہ 50 فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ ترک کیا جانے والا مذہب عیسائیت ہے، مزید برآں 44 فیصد افراد نے عیسائیت چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کی بجائے بے دینی اختیار کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام قبول کرنے عالمی تنازعات مذہب تبدیل فیصد افراد افراد نے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔