نوجوان نسل کوڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں آگے بڑھائیں،جماعت اسلامی ہند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-1-3
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت اسلامی ہند کے زیراہتمام منعقد ہونے والے دوروزہ قصص 2.0 میڈیا ماسٹری بوٹ کیمپ میں امیرجماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے مسلمانوں کے وسیع ترسماج سے براہ راست تعامل اورمکالمے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔ دوروزہ ورکشاپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے میڈیا سے وابستہ افراد کومتوجہ کیا کہ وہ اپنی سوچ اور سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کریں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد کوچاہیے کہ وہ صرف اندرونی کمیونٹی مکالمے تک محدود نہ رہیں بلکہ وسیع ترسماج کے ساتھ مسلمانوں کوجوڑنے کی مثبت کوششوں کوفروغ دیں۔سید سعادت اللہ حسینی نے نوجوان نسل کی تربیت اوررہنمائی پرخاص زوردیتے ہوئے کہا کہ نوجوان فطری طورپرٹیکنالوجی سے قریب ہوتے ہیں اوروہ جنریشن زیڈ کی زبان سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ڈیجیٹل اورسوشل میڈیا کے میدان میں نوجوان نسل کوآگے بڑھائیں تاکہ وہ اس میدان میں مؤثرکردارادا کرسکیں۔ انہوں نے وسیع ترمیڈیا برادری کے ساتھ باقاعدہ نیٹ ورکنگ کی اہمیت کوبھی اجاگرکیا۔ سید سعادت اللہ حسینی نے صحافیوں، میڈیا نمائندوں اورایڈیٹروں سے رابطے بڑھانے پرزوردیا تاکہ پیشہ ورانہ روابط اورباہمی تعلقات کومضبوط کیا جا سکے اورمثبت رخ پررائے عامہ کو ہموارکیا جا سکے۔دوروزہ بوٹ کیمپ قصص 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی ہند
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔