پنجاب کا غیر منصفانہ بلدیاتی ایکٹ مسترد کرتے ہیں، حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ ایک کالا قانون ہے جسے ہم قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ یہ قانون عوام کے حقوق کو سلب کرتا ہے اور ان کے نمائندوں کو کسی بھی قسم کی کوئی آزادی نہیں دیتا۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں 7 دسمبر کو پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب ایک مکمل قبضہ گروپ ہے جس نے سندھ میں کرپشن، نااہلی اور لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ سندھ حکومت کے سرپرست وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی مرضی کی ترامیم اور قانون سازی کرنی ہوتی ہے اور اسی بدعنوانی کی بدولت وہ استثنا حاصل کرتے ہیں۔ کراچی صوبے کا 98 فیصد بجٹ فراہم کرتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ شہر اور اس کے عوام لاتعداد مسائل کا شکار ہیں۔ سندھ حکومت نے گزشتہ 15 برس میں کراچی کے 3360 ارب روپے کھا لیے ہیں، اور اب صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحثیں چھیڑ کر عوام کو لڑایا جا رہا ہے۔جب سندھ حکومت کراچی کے اداروں، اختیارات و وسائل پر قبضہ کر رہی تھی، تو ایم کیو ایم خاموش رہی۔انہوں نے کہا کہ ہماری شدید خواہش ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو باقاعدہ شہری حکومتوں کا درجہ دیا جائے اور آئین میں ان کا تحفظ کیا جائے۔ آرٹیکل 140-A کے مطابق تمام مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔ عوام سے براہِ راست منتخب ہونے والے یوسی چیئرمین کے اختیارات کا سلب کیا جانا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ جماعت اسلامی کا نعرہ ’’عوام کو اختیار دو‘‘ اور’’بدل دو نظام تحریک‘‘ عوام کو اختیار دینے کی تحریک ہے۔ ہم مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں بااختیار بنانے کی تحریک کو تیز تر کریں گے۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتی غفلت کا تازہ ترین مظاہرہ نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے معصوم بچے کا دل خراش واقعہ ہے۔ اس واقعے کی ذمے داری براہِ راست قابض میئر مرتضیٰ وہاب پر عاید ہوتی ہے جو واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئر مین ہیں۔ کراچی میں جگہ جگہ گڑھے ہیں، انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مسلسل حادثات ہو رہے ہیں۔ ریڈ لائن کے نام پر اہل کراچی کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے اور 30 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا عزم ہے کہ ہم عوامی کمیٹیوں کی مدد سے ان کے حقوق کا دفاع کریں گے۔ ڈاکٹر فواد اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں نے گلشن اقبال میں ایک عام شہری کے گھر پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ ہم نے قبضہ گیروں کے خلاف عوامی مزاحمت شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں ایک سیل بھی قائم کیا ہے۔پاکستان کے ہر حصے میں قبضہ مافیا اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے، خواہ وہ کسانوں کی زمین ہو یا شہریوں کے گھروں پر قبضے کا معاملہ۔ جماعت اسلامی اس پورے سسٹم میں عوام کی ترجمانی کرے گی اور جہاں بھی کوئی قبضہ ہوگا، وہاں جماعت اسلامی مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ ہم نے اس سلسلے میں باقاعدہ ایک عوامی تحریک شروع کی ہے اور عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اس تحریک کا حصہ بنیں۔’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والے جواب دیں یہی ووٹ کی عزت ہے کہ عوام کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا؟ لاہور جیسے شہر کو اب ایک ٹاؤن کا اسٹیٹس دے دیا گیا ہے اور اب وہاں کوئی بھی چیئرمین صرف لاہور ٹاؤن کا چیئرمین ہو گا۔ موجودہ حکومت کسی کو بھی بااختیار نہیں دیکھنا چاہتی۔ڈاکٹر حمیراطارق نے کہا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا یہ عہد کیا ہے کہ وہ ملک کے ہر فرد کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرے گی اور عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔ ہم اس پورے نظام کے خلاف عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ڈاکٹر حمیرا نے کہا کہ کرتے ہیں کے حقوق عوام کو ہے اور اور ان کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔