data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ ایک کالا قانون ہے جسے ہم قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ یہ قانون عوام کے حقوق کو سلب کرتا ہے اور ان کے نمائندوں کو کسی بھی قسم کی کوئی آزادی نہیں دیتا۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں 7 دسمبر کو پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب ایک مکمل قبضہ گروپ ہے جس نے سندھ میں کرپشن، نااہلی اور لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ سندھ حکومت کے سرپرست وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی مرضی کی ترامیم اور قانون سازی کرنی ہوتی ہے اور اسی بدعنوانی کی بدولت وہ استثنا حاصل کرتے ہیں۔ کراچی صوبے کا 98 فیصد بجٹ فراہم کرتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ شہر اور اس کے عوام لاتعداد مسائل کا شکار ہیں۔ سندھ حکومت نے گزشتہ 15 برس میں کراچی کے 3360 ارب روپے کھا لیے ہیں، اور اب صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحثیں چھیڑ کر عوام کو لڑایا جا رہا ہے۔جب سندھ حکومت کراچی کے اداروں، اختیارات و وسائل پر قبضہ کر رہی تھی، تو ایم کیو ایم خاموش رہی۔انہوں نے کہا کہ ہماری شدید خواہش ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو باقاعدہ شہری حکومتوں کا درجہ دیا جائے اور آئین میں ان کا تحفظ کیا جائے۔ آرٹیکل 140-A کے مطابق تمام مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔ عوام سے براہِ راست منتخب ہونے والے یوسی چیئرمین کے اختیارات کا سلب کیا جانا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ جماعت اسلامی کا نعرہ ’’عوام کو اختیار دو‘‘ اور’’بدل دو نظام تحریک‘‘ عوام کو اختیار دینے کی تحریک ہے۔ ہم مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں بااختیار بنانے کی تحریک کو تیز تر کریں گے۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتی غفلت کا تازہ ترین مظاہرہ نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے معصوم بچے کا دل خراش واقعہ ہے۔ اس واقعے کی ذمے داری براہِ راست قابض میئر مرتضیٰ وہاب پر عاید ہوتی ہے جو واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئر مین ہیں۔ کراچی میں جگہ جگہ گڑھے ہیں، انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مسلسل حادثات ہو رہے ہیں۔ ریڈ لائن کے نام پر اہل کراچی کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے اور 30 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا عزم ہے کہ ہم عوامی کمیٹیوں کی مدد سے ان کے حقوق کا دفاع کریں گے۔ ڈاکٹر فواد اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں نے گلشن اقبال میں ایک عام شہری کے گھر پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ ہم نے قبضہ گیروں کے خلاف عوامی مزاحمت شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں ایک سیل بھی قائم کیا ہے۔پاکستان کے ہر حصے میں قبضہ مافیا اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے، خواہ وہ کسانوں کی زمین ہو یا شہریوں کے گھروں پر قبضے کا معاملہ۔ جماعت اسلامی اس پورے سسٹم میں عوام کی ترجمانی کرے گی اور جہاں بھی کوئی قبضہ ہوگا، وہاں جماعت اسلامی مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ ہم نے اس سلسلے میں باقاعدہ ایک عوامی تحریک شروع کی ہے اور عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اس تحریک کا حصہ بنیں۔’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والے جواب دیں یہی ووٹ کی عزت ہے کہ عوام کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا؟ لاہور جیسے شہر کو اب ایک ٹاؤن کا اسٹیٹس دے دیا گیا ہے اور اب وہاں کوئی بھی چیئرمین صرف لاہور ٹاؤن کا چیئرمین ہو گا۔ موجودہ حکومت کسی کو بھی بااختیار نہیں دیکھنا چاہتی۔ڈاکٹر حمیراطارق نے کہا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا یہ عہد کیا ہے کہ وہ ملک کے ہر فرد کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرے گی اور عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔ ہم اس پورے نظام کے خلاف عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں ہیں۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ڈاکٹر حمیرا نے کہا کہ کرتے ہیں کے حقوق عوام کو ہے اور اور ان کے لیے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے