Jasarat News:
2026-06-03@05:14:07 GMT

برطانیہ میں نوویچوک قتل کیس: پیوٹن ذمہ دار قرار

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برطانوی عدالت نے 2018 کے نوویچوک زہر کے مشہور واقعے کی انکوائری رپورٹ عام کر دی، جس میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سابق ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکرپل کے قتل کی منظوری دی تھی۔

(نوویچوک ایک انتہائی زہریلا کیمیائی ایجنٹ ہے جو عصبی نظام کو متاثر کرتا ہے،  یہ بنیادی طور پر روس میں تیار کیا گیا تھا اور اسے فوجی اور خفیہ کارروائیوں میں استعمال کے لیے بنایا گیا۔)

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ زہریلے پرفیوم کے ذریعے قتل کی سازش ایک انتہائی خطرناک کارروائی تھی، جس میں ایک بے گناہ خاتون ڈان سرجیس ہلاک ہوگئیں،  مارچ 2018 میں سرگئی اسکرپل اور ان کی بیٹی یولیا کو سالسبری میں بے ہوش حالت میں پایا گیا تھا جب کہ ان کے گھر کے دروازے پر نوویچوک زہر لگا ہوا تھا،  اس حملے میں سرگئی محفوظ رہے۔

چار ماہ بعد روسی ایجنٹس نے ایک زہریلی پرفیوم کی بوتل سڑک پر پھینکی، جسے ایک راہگیر نے اپنی ساتھی ڈان سرجیس کو دے دیا،  خاتون نے اسے پرفیوم سمجھ کر کپڑوں پر چھڑکا، جس سے وہ فوری طور پر ہلاک ہوگئیں اور ان کا ساتھی شدید بیمار ہوا۔

سپریم کورٹ جج انتھونی ہیوز کے مطابق یہ کارروائی روسی ملٹری انٹیلیجنس جی آر یو کی خصوصی ٹیم نے کی اور اس نوعیت کی کارروائی صرف صدر پیوٹن کی منظوری سے ممکن تھی،  زہریلی بوتل میں موجود نوویچوک ہزاروں لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔

برطانوی حکومت نے رپورٹ کے بعد روس کی جی آر یو پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور روسی سفیر کو طلب کیا گیا ہے،  روس نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور لندن میں روسی سفارت خانے کی جانب سے فوری ردعمل نہیں آیا۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ برطانوی تحقیقات نے روسی صدر پیوٹن کو لندن میں سابق روسی ایجنٹوں کے قتل کی کارروائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ 2016 کی انکوائری میں بھی پیوٹن کو سابق ایجنٹ الیگزینڈر لیتوینینکو کے قتل کا ممکنہ ذمہ دار بتایا گیا تھا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قتل کی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا