2024 ء: عالمی سطح پر اسلحے کی فروخت میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251202-08-7
اسٹاک ہوم (مانیٹر نگ ڈ یسک)سال 2024 میں دنیا میں اسلحے کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا اور 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے 679 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 2023 کے مقابلے میں اسلحے کی فروخت کی یہ شرح تقریباً 6 فیصد زیادہ رہی، اسلحے کی زیادہ فروخت امریکی اور یورپی کمپنیوں نے کی۔ رپورٹ کے مطابق غزہ اور یوکرین کی جنگوں کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی جغرافیائی کشیدگی اور مسلسل بڑھتے ہوئے فوجی بجٹ نے عسکری ساز و سامان کی فروخت میں نمایاں اضافہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عالمی اضافے کا زیادہ تر حصہ یورپ اور امریکا کی دفاعی کمپنیوں کے حصے میں آیا۔رپورٹ کے مطابق اسلحے کی فروخت سے سب سے زیادہ ریونیو کمانے والی 10 کمپنیوں میں 6 امریکی، 2 چینی، ایک روسی اور ایک برطانوی کمپنی شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں جاپانی اسلحہ ساز کمپنیوں کی فروخت میں سب سے زیادہ 40 فیصد اضافہ ہوا، جرمن کمپنیوں کی فروخت میں 36 اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کی فروخت میں 31 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چینی کمپنیوں کی فروخت میں 10فیصد کمی دیکھنے میں ا?ئی۔رپورٹ کے مطابق 2023 کے مقابلے میں چیک ری پبلک کی کمپنی چیکو سلوواکیا گروپ کی فروخت میں سب سے زیادہ 192.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمپنیوں کی فروخت میں اسلحے کی فروخت رپورٹ کے مطابق فیصد اضافہ ہوا
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔