دنانیر کا بنکاک ٹرپ! خوبصورت تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
مشہور سوشل میڈیا سٹار اور اداکارہ دنانیر مبین نے اپنے حالیہ بنکاک ٹرپ کی دلکش تصاویر شیئر کر کے ایک بار پھر مداحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔اداکارہ دنانیر نے انسٹاگرام پر خوبصورت مقامات پر لی گئی تصاویر کا دلکش مجموعہ پوسٹ کیا جن میں ان کا بااعتماد انداز، پرسکون مسکراہٹ اور نیچرل لک واضح ہے۔شیئر کی گئی ہر تصاویر میں دنانیر کا سادہ مگر خوبصورت میک اَپ، نرم لہردار بال اور چہرے کی قدرتی چمک مداحوں کو بےحد پسند آئی، پوسٹ دیکھتے ہی فینز نے محبت اور تعریفوں کے ڈھیر لگا دیئے۔کسی نے انہیں خوبصورت گڑیا کہا تو کسی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ تو ان کی سالگرہ کے مہینے کا بہترین آغاز ہے، کئی مداحوں نے ان کے انداز اور شخصیت کو سراہتے ہوئے دعاؤں سے بھی نوازا۔دوسری جانب دنانیر نے ایک اور تصویروں کا خوبصورت کیراؤسل پوسٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ "یہ گلاس وائب" ہے جس پر صارفین نے تبصرہ کیا کہ آپ پر یہ پیارے چشمے بہت دلکش لگ رہے ہیں۔واضح رہے کہ دنانیر مبین نے اپنی اداکاری، منفرد انداز اور وائرل ویڈیوز کے ذریعے کم وقت میں بے پناہ شہرت حاصل کی، نوجوانوں میں ان کی مقبولیت نے انہیں ملک کی نمایاں سوشل میڈیا سٹارز میں شامل کر دیا ہے اور انسٹاگرام سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالوورز ان کے مداح ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ