شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سماعت، سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر طلب
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کرشنگ شروع نا کرنے اور شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورات کے آئینی بینچ کے روبرو گنے کی کرشنگ شروع نا کرنے اور شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ شوگر کین ایکٹ کے مطابق 15 نومبر سے گنے کی کرشنگ کا سیزن شروع ہوتا ہے۔
شوگر کین ایکٹ کے تحت 30 نومبر تک شوگر ملز چلانی تھی لیکن آج 28 نومبر تک شوگر ملز بند پڑی ہیں۔ شوگر ملز بند ہونے سے گنا گل سڑ رہا ہے۔
درخواس گزار نے موقف اپنایا کہ گنے کی کٹائی نہ ہونے سے گندم کی کاشت تک نہیں ہو سکی۔ گنے کے کاشتکاروں کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔
عدالت نے سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔