بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے وزارتِ داخلہ نے نئی ہدایات جاری کردیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کے ہوائی اڈوں پر آف لوڈ ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد وزارتِ داخلہ نے نئی اور واضح ہدایات جاری کر دی ہیں، تاکہ ویزا موجود ہونے کے باوجود مسافروں کو سفر سے محروم نہ ہونا پڑے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق امیگریشن حکام کو قائل کرنا ہر مسافر کی ذمہ داری ہے، اور اگر کسی شہری کی معلومات یا دستاویزات ناکافی ہوں تو امیگریشن افسران اسے سفر سے روک سکتے ہیں۔ یہ اقدامات پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ اور امیج کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ بعض شہری خصوصاً سینی گال ویزے کے ذریعے غیر قانونی یا مشکوک طریقوں سے بیرونِ ملک سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مسافروں کی مکمل جانچ پڑتال ضروری قرار دی گئی ہے۔
مسافروں کے لیے لازمی شرائطریٹرن ٹکٹ،
ہوٹل کی بکنگ،
بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات،
مکمل اور تصدیق شدہ سفری دستاویزات۔
امیگریشن حکام ہر مسافر کی سخت جانچ کریں گے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، انسانی اسمگلنگ یا مشکوک سفر کو روکا جاسکے اور مسافر کو سفر میں کسی رکاوٹ یا آف لوڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حالیہ دنوں میں متعدد پاکستانیوں کو ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن کی ویڈیوز اور رپورٹس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ اس پس منظر میں وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے پہلے تمام ضروری دستاویزات مکمل رکھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
وزارت کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شبیہ اور ذمہ دار ریاست کے تاثر کو بھی مضبوط کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔