دبئی میں عالمی ائیر شو کے دوران بھارت کے جنگی طیارے تیجس کے گر کر تباہ ہونے کے واقعے نے بھارتی فضائیہ کے اندر موجود کئی کمزوریوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ واقعہ اس لمحے پیش آیا جب بھارتی پائلٹ دبئی ایئرشو میں ایروبیٹک اسٹنٹ کا مظاہرہ کر رہا تھا کہ طیارہ اچانک توازن کھو بیٹھا اور بلندی پر  فضا میں جھٹکے کھاتا ہوا نیچے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دھماکے سے تباہ ہوگیا۔ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں متحرک ہوئیں، تاہم پائلٹ جانبر نہ ہو سکا۔

بھارتی فضائیہ نے حادثے اور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، تاہم ابتدائی اشارے طیارے میں تکنیکی نقص کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

دلچسپ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چند روز قبل اسی ائیر شو میں تیجس طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اس کے فیول ٹینک سے تیل ٹپکتا دیکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو پر پہلے ہی تکنیکی ماہرین نے سوالات اٹھائے تھے اور اب حادثے نے ان خدشات کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھارتی شہریوں نے اپنی فضائیہ پر تنقید کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ تقریباً ہر پلیٹ فارم پر ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ آخر بھارتی فضائیہ اپنے لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال، تیاری اور تربیت کے معاملے میں اتنی غفلت کیوں برت رہی ہے؟

بھارتی صارفین نے اپنے غم و غصے کا اظہار انتہائی تلخ انداز میں کیا۔ انوشی تیواری نامی صارف نے لکھا کہ یہ بھارت کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی شرمندگی ہے اور اس شرمندگی کا بوجھ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو عہدہ چھوڑ کر اُتار دینا چاہیے۔

اسی طرح تیجسوی پراکاش نے ٹیکنالوجی اور تربیت کے فقدان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی طیارے بنیادی ایروبیٹک اسٹنٹس بھی انجام نہیں دے سکتے تو یہ مسئلہ ٹیکنالوجی سے زیادہ تربیت سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے بھارتی ائیر چیف پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ جب پائلٹس کی تربیت اور نظم و ضبط پر توجہ کم ہو اور قیادت اکثر ڈانس ویڈیوز میں مصروف نظر آئے تو پھر حادثات کوئی حیرت کی بات نہیں رہتے۔

بھارت کے دفاعی ماہرین اس حادثے کو سنگین انتباہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ تیجس طیاروں کے صرف 2 سال کے دوران یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں تیجس کا ایک اور طیارہ راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں تربیتی پرواز کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔

2 سال میں 2 واقعات نے اس حساس پروگرام پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا یہ طیارہ واقعی عالمی معیار کا جنگی جہاز ہے یا محض ایک خطرناک تجربہ جس پر بھارت مسلسل اصرار کیے ہوئے ہے۔

دبئی حادثے نے بھارت کی دفاعی تیاریوں سے متعلق عالمی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ ایک بڑے بین الاقوامی ائیر شو میں اس طرح کی ناکامی نہ صرف بھارت کی تکنیکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خطے میں اس کی دفاعی پوزیشن کو بھی کمزور دکھاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بھارتی فضائیہ

پڑھیں:

واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔

کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔

حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔

حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل