دبئی ائیر شو میں طیارے کی تباہی: سوشل میڈیا پر بھارتی ائیر چیف کو ہٹانے کی مہم زور پکڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی میں عالمی ائیر شو کے دوران بھارت کے جنگی طیارے تیجس کے گر کر تباہ ہونے کے واقعے نے بھارتی فضائیہ کے اندر موجود کئی کمزوریوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ واقعہ اس لمحے پیش آیا جب بھارتی پائلٹ دبئی ایئرشو میں ایروبیٹک اسٹنٹ کا مظاہرہ کر رہا تھا کہ طیارہ اچانک توازن کھو بیٹھا اور بلندی پر فضا میں جھٹکے کھاتا ہوا نیچے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دھماکے سے تباہ ہوگیا۔ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں متحرک ہوئیں، تاہم پائلٹ جانبر نہ ہو سکا۔
بھارتی فضائیہ نے حادثے اور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، تاہم ابتدائی اشارے طیارے میں تکنیکی نقص کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
دلچسپ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چند روز قبل اسی ائیر شو میں تیجس طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اس کے فیول ٹینک سے تیل ٹپکتا دیکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو پر پہلے ہی تکنیکی ماہرین نے سوالات اٹھائے تھے اور اب حادثے نے ان خدشات کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھارتی شہریوں نے اپنی فضائیہ پر تنقید کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ تقریباً ہر پلیٹ فارم پر ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ آخر بھارتی فضائیہ اپنے لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال، تیاری اور تربیت کے معاملے میں اتنی غفلت کیوں برت رہی ہے؟
بھارتی صارفین نے اپنے غم و غصے کا اظہار انتہائی تلخ انداز میں کیا۔ انوشی تیواری نامی صارف نے لکھا کہ یہ بھارت کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی شرمندگی ہے اور اس شرمندگی کا بوجھ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو عہدہ چھوڑ کر اُتار دینا چاہیے۔
اسی طرح تیجسوی پراکاش نے ٹیکنالوجی اور تربیت کے فقدان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی طیارے بنیادی ایروبیٹک اسٹنٹس بھی انجام نہیں دے سکتے تو یہ مسئلہ ٹیکنالوجی سے زیادہ تربیت سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے بھارتی ائیر چیف پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ جب پائلٹس کی تربیت اور نظم و ضبط پر توجہ کم ہو اور قیادت اکثر ڈانس ویڈیوز میں مصروف نظر آئے تو پھر حادثات کوئی حیرت کی بات نہیں رہتے۔
بھارت کے دفاعی ماہرین اس حادثے کو سنگین انتباہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ تیجس طیاروں کے صرف 2 سال کے دوران یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں تیجس کا ایک اور طیارہ راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں تربیتی پرواز کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔
2 سال میں 2 واقعات نے اس حساس پروگرام پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا یہ طیارہ واقعی عالمی معیار کا جنگی جہاز ہے یا محض ایک خطرناک تجربہ جس پر بھارت مسلسل اصرار کیے ہوئے ہے۔
دبئی حادثے نے بھارت کی دفاعی تیاریوں سے متعلق عالمی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ ایک بڑے بین الاقوامی ائیر شو میں اس طرح کی ناکامی نہ صرف بھارت کی تکنیکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خطے میں اس کی دفاعی پوزیشن کو بھی کمزور دکھاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔