سوڈان میں مفادات کی جنگ، انسانیت کی شکست
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: متحدہ عرب امارات پر الزام ہے کہ وہ RSF کو اسلحہ، فنڈنگ اور گاڑیاں فراہم کر رہا ہے تاکہ سوڈان کے سونے کے ذخائر اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے، دوسری طرف مصر سوڈانی نیشنل آرمی کی مدد کر رہا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ سوڈان میں کوئی ایسی طاقت مضبوط نہ ہو جو اس کے مفادات کے لیے خطرہ بنے۔ سعودی عرب اور قطر بظاہر غیر جانبدار ہیں مگر ان کی نظریں بھی سوڈان کے تیل، بندرگاہوں اور افریقی تجارت پر ہیں۔ تحریر: عرض محمد سنجرانی
سوڈان، جو کبھی افریقہ کا طاقتور اور خوبصورت ملک سمجھا جاتا تھا، آج خون، آنسو اور تباہی کی تصویریں بن چکا ہے، الفشر شہر کی سڑکوں پر لاشیں بکھری ہیں، گھروں کے ملبے میں بچے رو رہے ہیں، اور ماؤں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، یہ مناظر کسی فلم کے نہیں بلکہ ایک حقیقت کے ہیں جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا مگر افسوس کہ عالمی ضمیر اب بھی سویا ہوا ہے، 26 اکتوبر کو ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) نے سوڈان کے شمال مغربی شہر الفشر پر حملہ کیا، جو سوڈانی نیشنل آرمی (SAF) کا مضبوط گڑھ تھا، باغی فورس نے شہر پر مکمل قبضہ کر لیا، گلیاں بندوقوں سے گونجتی رہیں، اور صرف ایک دن میں دو ہزار سے زیادہ شہری مارے گئے، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملہ جدید زمانے کی بدترین شہری تباہی میں سے ایک ہے، اس لڑائی کے بعد الفشر شہر تقریباً مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے، اسپتالوں میں زخمیوں کی گنجائش نہیں، پانی اور خوراک ختم ہو چکی ہے، بجلی غائب ہے، اور ہزاروں لوگ اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے صحراؤں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ لوگ دارفور، نیالا، الجنینہ، زالنجي، ام کداده اور الفشر جیسے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، سوڈان کے کئی شہر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور کچھ میں انسانی زندگی کے آثار ختم ہو رہے ہیں۔ سوڈان کی جنگ کی جڑ طاقت، اقتدار اور وسائل کی ہوس میں ہے، RSF اور SAF کے درمیان یہ لڑائی دراصل بیرونی ممالک کے مفادات کی جنگ ہے، متحدہ عرب امارات (UAE) پر الزام ہے کہ وہ RSF کو اسلحہ، فنڈنگ اور گاڑیاں فراہم کر رہا ہے تاکہ سوڈان کے سونے کے ذخائر اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے، دوسری طرف مصر (Egypt) سوڈانی نیشنل آرمی کی مدد کر رہا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ سوڈان میں کوئی ایسی طاقت مضبوط نہ ہو جو اس کے مفادات کے لیے خطرہ بنے۔
سعودی عرب (Saudi Arabia) اور قطر (Qatar) بظاہر غیر جانبدار ہیں مگر ان کی نظریں بھی سوڈان کے تیل، بندرگاہوں اور افریقی تجارت پر ہیں، ترکیہ (Türkiye) اور اردن (Jordan) نے الفشر میں ہونے والے قتلِ عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی دنیا صرف بیانات تک محدود ہے، کوئی عملی قدم نظر نہیں آ رہا۔ دارفور، الفشر، نیالا، اور الجنینہ وہ علاقے ہیں جو اب میدانِ جنگ بن چکے ہیں، ان شہروں میں نسل کشی (Genocide) کے واقعات کی تصدیق ہو چکی ہے، خواتین اور بچیوں پر ظلم، اجتماعی قتل، گھروں پر چھاپے اور لوگوں کو سڑکوں پر گولی مار دینے جیسے واقعات عام ہوگئے ہیں، اسپتالوں میں لاشوں کی گنتی رک گئی ہے، اور قبروں میں جگہ ختم ہو رہی ہے،دنیا کے بڑے ممالک جو امن، انصاف اور انسانیت کی بات کرتے ہیں، آج ان مظلوم لوگوں کے لیے خاموش ہیں۔
وہی دنیا جو یورپ کی جنگوں پر شور مچاتی ہے، افریقہ کے خون پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، یہ دوہرا معیار عالمی ضمیر کے زوال کا ثبوت ہے۔ سوڈان کی یہ جنگ ایک سیاسی نہیں بلکہ انسانی تباہی بن چکی ہے، وہاں بچے بغیر کھانے کے سڑکوں پر بیٹھے ہیں، مائیں اپنے گمشدہ بچوں کے نام پکار رہی ہیں، اور بزرگ راکھ بنے گھروں کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک ملک کی بربادی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ناکامی ہے، اگر دنیا نے اب بھی خاموشی نہ توڑی تو سوڈان مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا، دارفور کے میدانوں میں بہتا ہوا خون آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ جب انسانیت مرتی ہے تو صرف شہر نہیں جلتے، ضمیر بھی جل جاتے ہیں۔ سوڈان کے جلتے گھروں سے اٹھنے والا دھواں آج دنیا سے صرف ایک سوال پوچھ رہا ہے، کیا افریقہ کے انسان انسان نہیں، کیا ان کے آنسو کم قیمتی ہیں، اگر عالمی طاقتوں کے ضمیر نہیں جاگے تو کل تاریخ ان سب کو انسانیت کے قاتل قرار دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر رہا ہے سوڈان کے کہ سوڈان رہے ہیں کی جنگ
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین