data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور، سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ خاں نے سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے ججز کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ججز قابلِ احترام ہیں، تاہم ان کے استعفے کے پیچھے سیاسی اور ذاتی ایجنڈے کارفرما تھے۔

اپنے بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ مستعفی ججز نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے ہمیشہ کوششیں کیں اور ان کے استعفے میں یہ وضاحت شامل نہیں تھی کہ کس طرح 27ویں آئینی ترمیم آئین پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق، یہ استدلال ججز کے موقف کی بنیاد نہیں بنتا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں حکومت اور اپوزیشن کے دو دو نمائندے شامل ہیں، جبکہ عدلیہ کے پانچ سینئر ترین ججز اور بار و سول سوسائٹی کا ایک ایک نمائندہ بھی موجود ہے، جو فیصلوں کی شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستعفی ججز کے سیاسی رویے کی وجہ سے سپریم کورٹ میں ایک فریق سات اور دوسرا آٹھ ججز کی حمایت میں رہا، جو عدلیہ کے وقار کے لیے مناسب نہیں، آئین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا آئینی اختیار ہے اور اس میں ججز کا مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مستعفی ججز کے مؤقف اور استعفے کے معاملے پر حتمی فیصلہ صدر مملکت کے اختیار میں ہے اور یہ صدر کی صوابدید ہے کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ صادر کریں، سپریم کورٹ میں ججز کے اختلافات کی نشاندہی بھی اسی تناظر میں کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد عدالتی اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ مستعفی ججز ججز کے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف