عراق انتخابات: شیاع السودانی کی زیر قیادت اتحاد نے بازی مار لی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
عراق کے آزاد اعلیٰ انتخابی کمیشن نے بدھ کو اعلان کیا کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کی زیر قیادت اتحاد نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، السودانی کے اتحاد نے منگل کے دن ہونے والے انتخابات میں 13.17 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔
“رائٹرز “کی رپورٹ کے مطابق، دو انتخابی کمیشن کے اہلکاروں نے بتایا کہ شیاع السودانی نے انتخابات میں پہلے نمبر پر جگہ بنائی ہے۔ یہ السودانی کا دوسرا دور حکومت ہوگا۔
تاہم، بہت سے نوجوان ووٹرز ان انتخابات کو بس ایک ایسا موقع سمجھتے ہیں جس میں موجودہ سیاسی جماعتیں عراق کے تیل کا پیسہ آپس میں تقسیم کرنے کے لیے میدان میں ہیں۔
اپنے بیان میں السودانی نے خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو کئی سالوں کی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے بعد عراق کو کامیابی کی راہ پر لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ روایتی پارٹیوں کے اثر سے آگے بڑھ چکے ہیں۔
عراق کی 329 رکنی پارلیمنٹ میں کوئی بھی جماعت اکیلے حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اس لیے حکومت بنانے کے لیے جماعتیں دوسرے گروپوں کے ساتھ اتحاد کرتی ہیں، جو اکثر کئی مہینوں کا پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔
انتخابی کمیشن نے بتایا کہ انتخابات میں کل ووٹر ٹرن آؤٹ 56.
ابتدائی نتائج کے اعلان کے بعد السودانی نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا، ”ووٹرز کی یہ شرکت ایک اور کامیابی کا ثبوت ہے، جس سے سیاسی نظام میں اعتماد کی بحالی ظاہر ہوتی ہے۔“
ماہرین کے مطابق، اس الیکشن کے نتائج عراق میں سیاسی اتحاد اور حکومت سازی کے عمل کو اہم چیلنجز کا سامنا دیں گے، کیونکہ کسی ایک پارٹی کے لیے مکمل اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، اور نئے اتحاد قائم کرنے کے لیے کئی مہینوں کی مذاکراتی حکمت عملی درکار ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انتخابات میں کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔