Jasarat News:
2026-06-03@08:08:20 GMT

27 ویں کی ترمیم اور مضمرات

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251113-03-2
یہ بات پہلے سے یقینی تھی کہ حکومت اور بڑی طاقتوں کو ہر صورت میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے 27 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا ہے۔ اس تناظر میں کسی بھی رکاوٹ کو نہ تو حکومت برداشت کرنے کے لیے تیار تھی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے حلقے۔ یہی وجہ ہے کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری جس سیاسی پھرتی اور سیاسی عجلت میں کی گئی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ اس ترامیم کے پیچھے قانون سے زیادہ سیاسی محرکات ہیں۔ سینیٹ سے منظوری کے لیے حکومت کے پاس دو ووٹ کم تھے اور یہ کمی پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک رکن کی حمایت سے یقینی بنا لی گئی۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 27 ویں ترمیم کی منظوری ممکن ہو جائے گی۔ 27 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد ایک بات یقینی ہو گئی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی طاقت اور سیاسی کنٹرول سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں غیر سیاسی قوتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ جیسا چاہیں اور جب چاہیں اپنی مرضی اور منشا کے مطابق سیاست، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ استثنیٰ کی سیاست نے کئی چہروں کو بے نقاب کیا ہے اور اس سے پورا حکومتی ڈھانچہ متاثر بھی ہوا ہے۔ یہ سارا منظر نامہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور طاقتور طبقات کے سامنے ریاست، حکومت اور عوام کے مفادات کے مقابلے میں اپنے ذاتی مفادات کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس کھیل میں آصف علی زرداری کے لیے فوجداری مقدمات سے بچنے کے لیے استثنیٰ حاصل کر لیا ہے۔ اسی طرح حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو عدلیہ کے اندر سے جس مزاحمت کا سامنا تھا اس کے بھی پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ پہلے 26 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کمزور کیا گیا اور اب 27 ویں ترمیم میں بچی کھچی عدلیہ کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے مقابلے میں آئینی عدالتوں کا قیام ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں اور عدالت عظمیٰ کے مقابلے میں آئینی عدالتوں کو اہمیت دے کر حکومت اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی خواہشمند ہے۔ بظاہر تو یہ کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ نے اس میں ترمیم کی منظوری دی ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ترمیم نہیں تھی بلکہ آئین کو ایک خاص مقصد کی بنیاد پر دوبارہ لکھا گیا ہے۔ بلاول زرداری کے بقول 27 ویں ترمیم سے کسی بھی طرح سے نہ تو پارلیمنٹ کی تذلیل ہوئی ہے اور نہ ہی پارلیمانی اور جمہوری سیاست کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس انداز سے 27 ویں ترمیم منظور ہوئی ہے اس نے نمائشی پارلیمنٹ کی حیثیت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان کی نام نہاد جمہوری قوتیں غیر سیاسی قوتوں کا الہ ِ کار بن کر کام کر رہی ہیں۔ اس ترمیم سے ہم جمہوری سفر میں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف گئے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ ہم نے جمہوریت اور قانون یا آئین کی حکمرانی کے تناظر میں سیاسی سمجھوتا کیا ہے۔ دنیا میں پارلیمانی جمہوریت میں آئین کی منظوری یا ترمیم کے حوالے سے جو عمل ہم نے دکھایا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس حد تک خود مختار سیاست جمہوریت اور پارلیمنٹ رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ کو تو بڑی قوتوں نے محض ایک ربڑ اسٹمپ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس ترمیم کی منظوری سے عدلیہ کا پورا نظام متاثر ہوا ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ عدلیہ میں موجود سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے ججوں نے بھی پسپائی اختیار کر کے خود اپنے ادارے کو کمزور کیا ہے۔ اصل میں تو حکومت نے مخالف سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگا دیا ہے اور ان کے لیے کوئی راستہ نہیں بچا۔ حکومت کو اس وقت عدلیہ کے اندر سے مزاحمت کا سامنا تھا اور اس ترمیم کی مدد سے اس مزاحمت کا علاج بھی کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی کے نئے اداروں کا قیام اور فیلڈ مارشل یا آرمی چیف کو بہت زیادہ اختیارات دے کر بھی بحث کا ایک نیا راستہ کھولا گیا ہے۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو جو داخلی اور علاقائی چیلنجز ہیں ان میں اس طرز کی ترمیم کرنا یا فیلڈ مارشل کو زیادہ اختیارات دینا وقت کا تقاضا بھی تھا اور اس عمل سے تمام سیکورٹی اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری اور ہم آہنگی کا عمل بھی مضبوط ہوگا۔ ممکن ہے کہ یہ بات درست ہو لیکن اس کے لیے پراسرار طریقہ کیوں اختیار کیا گیا اور کیوں ایک بڑے بحث و مباحثہ اور اتفاق رائے سے گریز کیا گیا۔ کیا یہ ضروری تھا کہ 27 ویں ترمیم کو اس عجلت میں منظور کیا جاتا جیسے کیا گیا ہے۔ اس عمل نے 27 ویں ترمیم کو وجہ متنازع بنا دیا ہے اور پہلے سے موجود سیاسی اور قانونی تقسیم کو بھی اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے 27 ویں ترمیم کی منظوری کا نہ صرف بائیکاٹ کیا ہے بلکہ ایک ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ان کے بقول 27 ویں ترمیم آئین اور قانون کی بالادستی کے مقابلے میں شخصیات کو طاقت دینے کا کھیل تھا اور اس میں اپوزیشن کے موقف کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں نامزد اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پورا آئین کا ڈھانچہ متاثر ہوا ہے اور اس سے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا تصور کمزور ہوا اور شخصی حکمرانی کو طاقت ملی ہے۔ اس سارے کھیل میں جہاں مسلم لیگ ن کی سیاسی بے بسی دیکھنے کو ملی وہیں پیپلز پارٹی کا سیاسی کردار بھی سمجھوتے کی سیاست کا نظر آیا۔ فیصل وائوڈا پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری کا ٹاسک ہر صورت میں ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو دیا گیا ہے اور وہ اس ٹاسک کو مکمل کرنے میں مکمل تعاون کریں گے۔ کیونکہ اس ترمیم کی منظوری کے علاوہ ان دونوں بڑی جماعتوں کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے حلقوں میں نجی طور پر یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ اس ترمیم سے ان کی پارٹی کی سیاست متاثر ہوئی ہے اور لوگوں میں یہ سوچ آگے بڑھی ہے کہ پیپلز پارٹی بھی بڑی طاقتوں کے سامنے خود کو سرنڈر کر چکی ہے۔ بلاول جو مرضی کہتے رہیں اصل حکم تو آصف علی زرداری کا چل رہا تھا اور وہی چلا ہے۔ کیا آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہی اصل طاقت ہے اور ان کو راضی کر کے ہی ہم اقتدار کی سیاست کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اس حالیہ ترمیم کی منظوری پر عدالت عظمیٰ کے دو سینئر ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے تحفظات کی بنیاد پر موجودہ چیف جسٹس کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس ترمیم اس کی منظوری پر اعلیٰ عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ کے ججوں کا یہ پہلا خط نہیں ہے اس سے قبل بھی مختلف معاملات پر اعلیٰ عدلیہ کے جج چیف جسٹس کو تحریری طور پر اپنے تحفظات پیش کر چکے ہیں۔ لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو سکی اور وہ بدستور عدالتی معاملات میں اپنے بہت سے تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اس ریاست اور حکومت کے نظام میں جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کا تصور بہت پیچھے چلا گیا ہے اور ہم افراد کی بنیاد پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس طرح وفاقی حکومت فوری طور پر وفاق کی سطح پر عینی عدالتوں کے قیام کی کوشش کر رہی ہے اس سے بھی یہ شکوک و شبہات بڑھتے ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں ان آئینی عدالتوں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ممکن ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں تو قومی اسمبلی سے بھی 27 ویں ترمیم کی منظوری ہو چکی ہوگی اور یہ باقاعدہ آئین کا حصہ بن جائے گی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویں ترمیم کی منظوری کہ 27 ویں ترمیم کے مقابلے میں جمہوریت اور پیپلز پارٹی قومی اسمبلی عدالت عظمی دیا گیا ہے حکومت اور منظوری کے اور قانون کی سیاست ہے کہ اس تھا اور حکومت ا کیا گیا کر دیا اور اس دیا ہے ہے اور کے لیے ہوا ہے کیا ہے

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی