ایڈمرل نوید اشرف کا دورہ بنگلہ دیش، دوطرفہ میری ٹائم تعلقات میں سنگ میل قرار
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، جس کے دوران انہوں نے اعلیٰ عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں اور مختلف بحری تنصیبات کا دورہ کیا۔
اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو فروغ دینا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
ایڈمرل نوید اشرف کا دورہ پی این ایس سیف کے چٹاگرام پورٹ کے قیام کے ساتھ منسلک تھا۔
دورے کے دوران انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقارالزمان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ایم نظم الحسن، چیف آف ایئراسٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان اور آرمڈ فورسز کے پرنسپل اسٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں دفاعی اور بحری امور، خطے میں سیکیورٹی تعاون، اور باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
ایڈمرل نوید اشرف نے بنگلہ دیش کے نیشنل ڈیفنس کالج کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کے مینڈیٹ اور تربیتی پروگراموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر انہوں نے این ڈی سی کے صدر اور فیکلٹی ممبران سے بات چیت کی اور دفاعی تعلیم کے فروغ میں ادارے کے کردار کو سراہا۔
چٹاگرام میں بنگلہ دیش نیوی کے اعلیٰ حکام، بشمول کمانڈر چٹاگرام، کمانڈر نیوی فلیٹ اور ایریا سپرنٹنڈنٹ ڈاکیارڈ نے بھی نیول چیف سے ملاقاتیں کیں۔
ایڈمرل نوید اشرف نے بنگلہ دیش نیول اکیڈمی کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کو سراہا اور میری ٹائم شعبے میں جدید تعلیم و تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔
دورے کے دوران چٹاگرام پورٹ پر پی این ایس سیف پر ایک خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جہاں سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف اور پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے بنگلہ دیش نیوی کے چیف آف دی نیول اسٹاف کا پرتپاک استقبال کیا۔
عشائیے میں دونوں ممالک کے سفارت کاروں، اعلیٰ عسکری حکام، اسکالرز، صحافیوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بحری تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان میری ٹائم سیکیورٹی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈمرل نوید اشرف بنگلہ دیش پاکستان چیف آف دی نیول اسٹاف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈمرل نوید اشرف بنگلہ دیش پاکستان چیف آف دی نیول اسٹاف چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل چیف آف دی نیول اسٹاف دورے کے دوران سے ملاقات کی دونوں ممالک کا دورہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔