لاہور، نقب زنی کے ملزم کی گرفتاری، کروڑوں مالیت کا مسروقہ سامان برآمد
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لاہور:
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے لاہور پولیس نے نقب زنی کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی سربراہی میں انچارج شاد باغ انویسٹی گیشن تنزیل الرحمٰن نے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے شہر کے مختلف علاقوں میں نقب زنی کی متعدد وارداتیں کی تھیں۔ دوران تفتیش یہ انکشاف ہوا کہ ملزم دن کے وقت گھروں کی ریکی کرتا اور رات کے وقت ان گھروں میں داخل ہو کر قیمتی سامان چوری کر لیتا تھا۔
ملزم سے برآمد ہونے والی اشیاء میں 70 تولے طلائی زیورات، آرٹیفشل جیولری، 6 قیمتی گھڑیاں، 2 ٹیبلٹس، موبائل فونز اور 6 عدد ایل سی ڈیز شامل ہیں۔
ایس ایس پی محمد نوید نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد برآمد ہونے والے مال مسروقہ میں سے طلائی زیورات اور دیگر سامان کے مالکان کو واپس کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا اور ایس ایس پی محمد نوید نے شاد باغ انویسٹی گیشن کے انچارج تنزیل الرحمٰن اور ان کی ٹیم کی محنت کو سراہا اور ان میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک