لاہور، گلبرگ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے نقب زن کو گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لاہور:
گلبرگ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ایک متحرک نقب زن ملزم کو چند گھنٹوں میں ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔
ایس ایچ او گلبرگ تیمور عباس خان کے مطابق ملزم کو رات کے وقت الحفیظ ٹاور میں واقع ایک دوکان پر چوری کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، ملزم نے دو گھنٹے تک دوکان میں واردات کی اور مختلف اشیاء چوری کیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم چند روز سے دوکان کی ریکی کر رہا تھا اور موقع پاکر واردات کر کے فرار ہو گیا۔
پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم سے 8 چوری شدہ موبائل فونز اور 1 لاکھ روپے کی نقدی برآمد کی۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن ڈویژن سیدہ شہربانو نقوی نے ملزم ظفر کے خلاف مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن کے حوالے کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اس قسم کے جرائم میں ملوث افراد کو کسی صورت میں نہیں چھوڑا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔