میری جلد پاکستان کی مٹی کے رنگ کی ہے:مس یونیورس پاکستان روما ریاض کا ناقدین کو دوٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
رواں سال تھائی لینڈ میں مس یونیورس مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی روما ریاض نے اپنی رنگت پر ہونے والی تنقید کا خوبصورت اور پُرعزم انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری جلد اسی رنگ کی ہے جس کی پاکستان کی مٹی ہے۔
روما ریاض نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میری جلد پاکستان کی مٹی کے رنگ جیسی ہے، اسی رنگ کی عورتوں نے ہمارے خاندان، ہمارے گھر بنائے اور اپنے دلوں میں اس وطن کو بسایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر وہ پاکستانی خاتون جو کبھی یہ سن چکی ہے کہ وہ بہت سانولی ہے، بہت نڈر ہے یا بہت مختلف ہے تو آپ بھی پاکستان کا چہرہ ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by ROMA RIAZ (@romariaz_official)
روما ریاض نے ویڈیو میں معاشرے میں رنگت پر مبنی تعصب (Colorism) پر بھی کھل کر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں رنگت کے فرق نے یہ سکھایا ہے کہ گوری رنگت کو خوبصورتی سمجھو اور اپنی جڑوں کو بھول جاؤ، مگر میں اُس نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہوں جو جنوبی ایشیائی عورت کے لیے بنائے گئے تنگ نظری کے نظریے قبول نہیں کرتی۔
انہوں نے فخر سے کہا کہ میں پاکستانی ہوں، اپنی جڑوں میں، اپنی اقدار میں اور اپنی جلد کے ہر شیڈ میں، خوبصورتی کو کسی ایک رنگ یا ظاہری معیار تک محدود نہیں کیا جا سکتا، خوبصورتی کسی خاص رنگ یا چہرے کے خدوخال سے وابستہ نہیں، یہ احساس اور شناخت کا نام ہے۔
ویڈیو کے آخر میں انہوں نے اردو میں بھی اپنے ناقدین کو پیغام دیا اور کہا کہ میں ہمیشہ ہر انٹرویو میں فخر سے کہتی ہوں کہ ہمارے لوگ ہماری سب سے بڑی پہچان ہیں، ہمیں بہتر بننا ہوگا، کیونکہ عالمی سطح پر نمائندگی کی کوئی اہمیت نہیں اگر ہم اپنی ہی قوم سے محبت نہ کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کی روما ریاض انہوں نے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔