اجلاس کے دوران کمیٹی نے ڈی جی لیویز سے 2022 سے تاحال محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بلوچستان لیویز فورس کی جانب سے آڈٹ پیراز کے جواب جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل لیویز سے 2022 سے تاحال محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں کمیٹی کے ارکان زمرک خان اچکزئی، غلام دستگیر بادینی اور ولی محمد نورزئی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل لیویز عبدالغفار مگسی، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال، ڈائریکٹر آڈٹ بلوچستان سید قدیم آغا اور چیف اکاؤنٹس آفیسر سید ادریس آغا اور دیگر افسران نے شرکت کیں۔ اجلاس میں لیویز فورس کے مختلف آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکمے کی جانب سے جوابات جمع نہ کرانے پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ جوابات بروقت جمع کیے جائیں۔

کمیٹی اراکین نے ڈائریکٹر جنرل لیویز سے 2022 سے تاحال محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کیں۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ بجٹ کو متعلقہ اضلاع کے رقبے اور ورکنگ ایریا کے مطابق موازنہ کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آفس آف ڈی جی لیویز فورس بلوچستان نے نیشنل بینک، شاہراہِ اقبال کوئٹہ میں بغیر محکمہ خزانہ کی منظوری کے بینک اکاؤنٹ قائم کیا تھا، جس میں 1 کروڑ 39 لاکھ روپے سے زیادہ رقم رکھے گئے جو مالی سال کے اختتام تک خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے۔ چیئرمین پی اے اراکین نے رائے دی کہ سرکاری رقم کو دوسرے اکاؤنٹ میں رکھنا ایک جرم ہے اور سختی سے ہدایت دی کہ مذکورہ اکاؤنٹ فوری طور پر بند کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے، اور پی اے سی کو ثبوت فراہم کرے۔ ڈی جی لیویز کے زیر انتظام مختلف زونل دفاتر، بشمول قلات، لورالائی، چاغی، تربت، کوئٹہ سینٹرل زون اور لیویز ٹریننگ سینٹر خضدار نے 24 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ آڈٹ حکام کو فراہم نہیں کیا۔

کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ دفاتر کے ریکارڈ 15 دن کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔ لیویز فورس بلوچستان اور ٹریننگ سینٹر خضدار میں 2019 تا 2021 مالی سال کے دوران گاڑیوں کی فیبریکیشن اور خوراک کی خریداری پر 10 کروڑ 51 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جن میں کسی قسم کا اوپن ٹینڈر نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے اس کو مالی بے قاعدگی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ اخراجات کی باقاعدہ منظوری (ریگولرائزیشن) کا حکم دیا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی اراکین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگرچہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے، تاہم صرف چمن اور ڈیرہ بگٹی دو اضلاع میں اب بھی لیویز میں بھرتیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی خالی آسامیاں موجود ہیں اور ان کے لئے اسمبلی سے بجٹ بھی پاس کیا گیا ہے۔ ان دو مخصوص اضلاع کے علاوہ ان پر بھرتیاں نہ کرنا باعث تشویش ہے۔ کمیٹی نے اس پر محکمہ سے وضاحت طلب کی اور فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے چیف سیکرٹری سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اخراجات کی لیویز فورس کمیٹی نے کو فراہم

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار