کوئٹہ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، لیویز آڈٹ رپورٹ کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اجلاس کے دوران کمیٹی نے ڈی جی لیویز سے 2022 سے تاحال محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بلوچستان لیویز فورس کی جانب سے آڈٹ پیراز کے جواب جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل لیویز سے 2022 سے تاحال محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں کمیٹی کے ارکان زمرک خان اچکزئی، غلام دستگیر بادینی اور ولی محمد نورزئی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل لیویز عبدالغفار مگسی، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال، ڈائریکٹر آڈٹ بلوچستان سید قدیم آغا اور چیف اکاؤنٹس آفیسر سید ادریس آغا اور دیگر افسران نے شرکت کیں۔ اجلاس میں لیویز فورس کے مختلف آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکمے کی جانب سے جوابات جمع نہ کرانے پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ جوابات بروقت جمع کیے جائیں۔
کمیٹی اراکین نے ڈائریکٹر جنرل لیویز سے 2022 سے تاحال محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کیں۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ بجٹ کو متعلقہ اضلاع کے رقبے اور ورکنگ ایریا کے مطابق موازنہ کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آفس آف ڈی جی لیویز فورس بلوچستان نے نیشنل بینک، شاہراہِ اقبال کوئٹہ میں بغیر محکمہ خزانہ کی منظوری کے بینک اکاؤنٹ قائم کیا تھا، جس میں 1 کروڑ 39 لاکھ روپے سے زیادہ رقم رکھے گئے جو مالی سال کے اختتام تک خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے۔ چیئرمین پی اے اراکین نے رائے دی کہ سرکاری رقم کو دوسرے اکاؤنٹ میں رکھنا ایک جرم ہے اور سختی سے ہدایت دی کہ مذکورہ اکاؤنٹ فوری طور پر بند کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے، اور پی اے سی کو ثبوت فراہم کرے۔ ڈی جی لیویز کے زیر انتظام مختلف زونل دفاتر، بشمول قلات، لورالائی، چاغی، تربت، کوئٹہ سینٹرل زون اور لیویز ٹریننگ سینٹر خضدار نے 24 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ آڈٹ حکام کو فراہم نہیں کیا۔
کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ دفاتر کے ریکارڈ 15 دن کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔ لیویز فورس بلوچستان اور ٹریننگ سینٹر خضدار میں 2019 تا 2021 مالی سال کے دوران گاڑیوں کی فیبریکیشن اور خوراک کی خریداری پر 10 کروڑ 51 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جن میں کسی قسم کا اوپن ٹینڈر نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے اس کو مالی بے قاعدگی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ اخراجات کی باقاعدہ منظوری (ریگولرائزیشن) کا حکم دیا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی اراکین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگرچہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے، تاہم صرف چمن اور ڈیرہ بگٹی دو اضلاع میں اب بھی لیویز میں بھرتیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی خالی آسامیاں موجود ہیں اور ان کے لئے اسمبلی سے بجٹ بھی پاس کیا گیا ہے۔ ان دو مخصوص اضلاع کے علاوہ ان پر بھرتیاں نہ کرنا باعث تشویش ہے۔ کمیٹی نے اس پر محکمہ سے وضاحت طلب کی اور فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے چیف سیکرٹری سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اخراجات کی لیویز فورس کمیٹی نے کو فراہم
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔