بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس؛حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی کا نوٹیفکیشن صرف ایک روز بعد واپس لے لیا ۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات کاکڑ کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندی اور اس کی واپسی دونوں محکمہ داخلہ بلوچستان کی ہدایت پر عمل میں لائی گئیں۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر 12 تا 14 نومبر تک بین الاضلاعی اور بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
بلوچستان کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پابندی کی واپسی کے بعد معمول کے مطابق سفر کریں اور حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد جاری رکھیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پبلک ٹرانسپورٹ پر کے مطابق
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔