چلاس میں لینڈسلائیڈنگ کے باعث 6 گاڑیاں دب گئیں اور 2 دریا میں جاگریں
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
چلاس کے مقام گندلو میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چھ گاڑیاں دب گئی ہیں جبکہ دو گاڑیاں دریا میں جا گریں۔ زرایع کے مطابق حادثہ لینڈ سلائیڈنگ کی شدت کی وجہ سے پیش آیا، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔
ایم ایس ریجنل کے مطابق ریجنل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تاکہ ممکنہ طور پر زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں اور تین گاڑیاں اور سات اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکار لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور دریا میں گرنے والی گاڑیوں کی تلاش کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور ریسکیو ٹیمیں ہر ممکن تیزی سے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل لینڈ سلائیڈنگ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔