اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم رہنماء کا کہنا تھا کہ 15 نومبر سے ملک بھر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام الناس کی منتخب کردہ حکومت نہیں ہے۔ گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے مسلط ہونے والے حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔ متعلقہ فائیلیںعلامہ ولایت حسین جعفری کا تعلق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ہے۔ وہ اسوقت مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی اور ملی یکجہتی کونسل کے بھی رکن ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی۔ اسکے بعد حوزہ علمیہ قم سے دین اسلام کی تعلیمات حاصل کیں۔ وہ کوئٹہ میں ان افراد میں سے ایک ہیں، جنہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے قیام کیساتھ ہی ایم ڈبلیو ایم میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل علامہ ولایت حسین جعفری ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ میں بھی مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں اور اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ولایت حسین جعفری نے کہا کہ 15 نومبر سے ملک بھر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام الناس کی منتخب کردہ حکومت نہیں ہے۔ گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے مسلط ہونیوالے حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت جلسے کی اجازت نہیں دیتی، تاہم قانونی راستے اپنا کر جلسہ کریں گے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ولایت حسین جعفری ایم ڈبلیو ایم نہیں ہے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن