نیتن یاہو کو غزہ پر حملوں کی اجازت دینے کی سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کیلئے سوالات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر حملوں کی اجازت دینے کی سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے سوالات کا سامنا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو متوقع طور پر آج (پیر) کنیسٹ میں ہونے والی اس بحث میں شریک ہوں گے، جس میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی اجازت دینے والی سکیورٹی کی ناکامیوں کی باضابطہ تحقیقات کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بحث حزب اختلاف کے رہنما یائیر لائیڈ کی جماعت یش عتید کی جانب سے شروع کی گئی ہے، جو ایک ایسے طریقہ کار کا استعمال کرتی ہے جس کے تحت حزب اختلاف ہر ماہ وزیر اعظم کی لازمی شرکت کے ساتھ سیشن طلب کر سکتی ہے۔
قبل ازیں نیتن یاہو کی حکومت اس تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی مزاحمت کر رہی ہے اور اس کے وقت اور اس کی قیادت کرنے والے افراد پر سوالات اٹھا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کی غزہ پر 7 اکتوبر 2023 کو شروع کی گئیں وحشیانہ کارروائیوں میں 68 ہزار 875 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 679 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ حماس کے حملے میں ایک ہزار 139 اسرائیلی مارے گئے تھے۔
حماس نے 200 سے زائد اسرائیلیوں کو گرفتار کرلیا تھا جن میں سے متعدد اسرائیلی حملوں کے دوران مارے گئے اور دیگر افراد کو جنگ بندی معاہدے میں قیدیوں کے تبادلوں کے تحت اسرائیل کے حوالے کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔