ہم اپنی جانیں دے دیں گے لیکن عمران خان کے لیے لڑیں گے،علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے لیکن بانی پی ٹی آئی کے لیے ہم لڑیں گے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ سوچیں کہ ڈر جائیں گے، جیلوں میں ڈالنا ہے ڈال دو۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو فکر ہے کہ ہم کہیں باہر کیسز لڑیں گے یا ان کا پیغام دیں گے، اگر آپ ڈرتے ہیں اور جیلوں میں ڈالیں گےتو ہم تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صبح کہا گیا کہ آپ عدالت جائیں گی توآپ کو گرفتار کر لیا جائے گا، پہلے یہ بتائیں کہ یہی کیس ہے نا کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام دیا ہے، آپ اتنے خوفزدہ ہیں بانی پی ٹی سے کہ آپ اپنا خوف ہر حرکت سے ظاہر کر رہے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ صرف پاکستان کے آگے نہیں باقی دنیا میں بھی آپ اپنا مذاق اڑا رہے ہیں لوگوں کوبھی نظر آرہا ہے، آپ گرفتار کریں اور پھر بتائیں کہ کس چیز کے لیے عمران خان کے ایک اور فیملی ممبر کو گرفتار کیا، یہ خود پھنسے ہوئے ہیں ہمیں جیل میں ڈالیں میری بہنیں بھی تیار ہیں وہ پیغام آپ کو دے دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ نہیں ہوں گی تو ہمارے بچے کھڑے ہو جائیں گے سارے جیل میں ڈال دیں، ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے یہ جنگ جاری رکھیں گے، جو جیلوں میں ہزاروں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کی فکر کر رہے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ جنہوں نے جنگ لڑی ہے اورجیل کاٹ رہے ہیں جن کے گھر ٹوٹے ہیں ان کی فکر کریں، جنہوں نے اتنا ظلم سہا جن کی فیملیزغربت میں بیٹھی ہوئی ہیں ان کی فکرکریں، میڈیا کی ذمہ داری ہے انسانیت کیلئے جن لوگوں کو مرید کے، کشمیر، 9 مئی، یا 26 نومبر کو گولیاں لگی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیمہ خان رہے ہیں نے کہا کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔