پاکستان اور رومانیہ کا بحری تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پاکستان اور رومانیہ کا بحری تعاون بڑھانے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 4 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری سے رومانیہ کے سفیر نے ملاقات کی جس میں بندرگاہی تعاون، تجارتی روابط اور میری ٹائم شعبے میں شراکت بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان کراچی پورٹ اور کانسٹانسا پورٹ کو جوڑنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جلد 6 آپریشنل بندرگاہوں والا ملک بننے جا رہا ہے جو یورپی منڈیوں تک رسائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے میری ٹائم تربیت، سکیورٹی اور ڈیجیٹل لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
رومانیہ کے سفیر نے پاکستانی سپورٹس اور زرعی مصنوعات میں گہری دلچسپی ظاہر کی جبکہ فریقین نے سرمایہ کاری اور نئے تجارتی راستوں کے امکانات پر بھی گفتگو کی، آخر میں پاکستان اور رومانیہ نے اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد؛ سپریم کورٹ کی بیسمنٹ کینٹین میں سلنڈر دھماکا اسلام آباد؛ سپریم کورٹ کی بیسمنٹ کینٹین میں سلنڈر دھماکا اسلام آباد ہائیکورٹ کا سلمان اکرم راجہ کی بانی سے آج ہی ملاقات کرانے کا حکم ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست دوحہ معاہدہ کی خلاف ورزی: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا، اقوام متحدہ رپورٹ حکومت کا 27 ویں آئینی ترمیم رواں ماہ ہی منظور کروانے کا پلان تیار غزہ میں بین الاقوامی فورسزکی تعیناتی کیلئے متفقہ فریم ورک تیارکر رہے ہیں، ترک وزیرخارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور رومانیہ بڑھانے پر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔