پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی، وزیر دفاع WhatsAppFacebookTwitter 0 3 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، پاکستان کے امریکا چین سعودی عرب اور دبئی کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اسلام آباد کے زیرِ اہتمام سیمینار سے خطاب میں انہوں ںے کہا کہ پاکستان اب عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی قرار دیے جا رہے ہیں، یہ شراکت داری باہمی اعتماد اور سمجھ بوجھ پر مبنی ہے، چین پاکستان کا ہر موسم کا دوست ہے پاکستان اور چین سی پیک فیز تھری پر کام بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وسط ایشیائی ممالک آذربائیجان اور ترکمانستان تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، پاکستان ترکی اور ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف ایک مؤثر آواز بن کر ابھرا ہے، پاکستان اصلاحات پر مکمل توجہ دے رہا ہے، پاکستان کی سفارت کاری اعتماد اور استحکام کی عکاسی کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے تعلقات امریکا سے بہتر ہوئے ہیں، ہمارے سفارت کار جو کام کر رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے، خارجہ پالیسی ہماری ترجیح ہے، دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی نے پاکستان پر اٹیک کرنے کا پلان بنایا اس کے بعد ہم نے فتح حاصل کی، آج ہمیں ڈپلومیسی میں بہتری محسوس کر رہے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ بہت سے سفارت کاروں نے انفرادی طور پر اچھا کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او کانفرنس کے ذریعے علاقائی سطح پر رابطہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں لیڈر شپ تبدیل ہو چکی ہے، اب پاکستان کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر لیڈ کر رہے ہیں، بہت سے پارٹنر آرہے ہیں اور پاکستان سے تعاون کی بات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لیڈر شپ کا جذبہ تبدیل ہو چکا ہے، چین کی ٹیکنالوجی کے بارے میں دنیا حیران ہے، دنیا اب تبدیل ہو چکی ہے، پاکستان معرکہ حق کے بعد دنیا کا ماحول تبدیل کر دیا، ہمارے سفارت کار جیو پولیٹیکز کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگورنر ہاؤس میں اسپیکر کی مکمل رسائی؛ سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے گورنر ہاؤس میں اسپیکر کی مکمل رسائی؛ سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے انسداد دہشت گردی عدالت سے علیمہ خان کے ساتویں مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری خانپور ڈیم آلودہ پانی فراہمی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو نوٹس اسلام آباد پولیس اہلکار تشدد کیس: ملزم عاقب نعیم 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار استنبول پہنچ گئے، غزہ کی صورتحال پر اہم اجلاس میں شریک ہونگے شاہانہ زندگی گزارنے والے ممکنہ ٹیکس چوروں کی نشاندہی کرلی گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی پاکستان کی
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎