لانڈھی جیل بریک: قیدیوں کے فرار کی وجہ زلزلہ یا کچھ اور، تحقیقات کیا کہتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
کراچی کی لانڈھی جیل سے 225 قیدیوں کے فرار کے واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار، ایک ہلاک
انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قیدیوں کا اجتماعی فرار محض زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ جیل انتظامیہ کی غفلت، لاپرواہی اور ناقص سیکیورٹی انتظامات نے بھی اس واقعے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کی ذمہ داری 3 جیل افسران پر عائد کی گئی ہے جن میں سپرنٹینڈینٹ ارشد حسین شاہ، ڈپٹی سپرنٹینڈینٹ ذوالفقار پیرزادہ اور اسسٹنٹ سپرنٹینڈینٹ عبداللہ خاصخیلی شامل ہیں۔
واقعے کا مقدمہ شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں اسسٹنٹ سپرنٹینڈینٹ ملیر جیل مولا بخش سہتو کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 19، 166، 217، 34، 223، 225 اور 129 کے تحت درج ہے اور مزید تفتیش انچارج سی آئی سی ملیر ڈویژن کے سپرد کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: اغوا اور زیادتی کے مقدمہ کا قیدی جیل واش روم کی کھڑکی توڑ کر فرار
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے وقت قیدیوں نے جیل کی رکاوٹیں توڑ کر اجتماعی طور پر فرار حاصل کیا۔
فرار ہونے والے قیدیوں میں سنگین جرائم میں ملوث افراد بھی شامل تھے۔
پولیس کی مختلف کارروائیوں میں 188 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم 37 قیدی تاحال مفرور ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی سٹی کورٹ، جہاں رشوت کے عوض قیدیوں کے لیے بہت کچھ میسر ہے
ذرائع کے مطابق ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 10 اکتوبر 2025 کو نامزد افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کراچی لانڈھی جیل لانڈھی جیل لانڈھی جیل بریک لانڈھی جیل تحقیقات لانڈھی جیل فرار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی لانڈھی جیل لانڈھی جیل لانڈھی جیل فرار لانڈھی جیل
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔