شیخ الازہر اور ویٹی کن؛ اے آئی سے متعلق مشترکہ ضابطہ اخلاق کی تیاری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اے آئی کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں جس کے باعث یہ بے لگام ہے تاہم اب اس کے گرد شکنجہ کسا جانے کی تیاری ہو رہی ہے۔
عالمی خبرایجنسی کے مطابق مصر کی جامعہ الازہر کے شیخ الازہر احمد الطیب نے اعلان کیا ہے کہ الازہر اور ویٹیکن مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس کا انسانی فلاح اور مثبت استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق روم میں منعقدہ سینٹ ایجیڈیو ورلڈ پیِس سے خطاب کرتے ہوئے احمد الطیب نے انکشاف کیا کہ سابق پوپ فرانسس کے ساتھ اس ضابطہ اخلاق کی تیاری کا عمل شروع کر چکے تھے، تاہم پہلے ان کی بیماری اور بعد ازاں ان کے انتقال کے باعث یہ ضابطہ اخلاق مکمل نہ ہوسکا۔
تاہم اب الازہر، ویٹی کن اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کی مشترک ٹیمیں اس کی تیاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔ تاکہ انسان اور اس کی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کی سمت کو درست کیا جا سکے اور مصنوعی ذہانت کا کردار انسان پر حاکم کی بجائے صرف خادم تک رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اب ایک فیصلہ کن طاقت بن چکی ہے جو معاشروں میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے اخلاقی اصولوں کے تابع رکھا جائے تاکہ مستقبل زیادہ منصفانہ اور متوازن بنایا جا سکے۔
شیخ الازہر نے کہا کہ ہم اس وقت ایک ایسے تہذیبی موڑ پر ہیں کہ یا تو ہم اس ایجاد کو اخلاقی زوال کا ذریعہ بننے دیں گے یا اسے انسانیت کی راہ درست کرنے کی قوت میں بدل دیں گے۔
واضح رہے کہ اے آئی جو انسانی شعبوں میں تیزی سے داخل ہو رہی ہے۔ اس کے کئی ایسے اقدامات سامنے آ چکے ہیں جس کے باعث ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں یہ مستقبل انسان اور انسانیت کے لیے خطرناک نہ ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ضابطہ اخلاق کی تیاری اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں