ورلڈ بینک کی پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔عالمی بینک کے اعلامیہ کے مطابق رقم پانی، صفائی اور بنیادی حفظانِ صحت کے منصوبوں کے لیے استعمال ہوگی۔ عالمی بینک کے اعلامیہ کے مطابق رقم صوبہ پنجاب میں شہروں میں صفائی اور پانی کی سہولیات کے لیے خرچ ہوگی۔پی آئی سی پی پروگرام پنجاب کے سولہ شہروں میں شروع کیا جائےگا۔ پروگرام سیوریج سسٹمز،پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بہتری اور بحالی میں مدد کرے گا۔ عالمی بینک کے مطابق منصوبہ صحت اخراجات میں کمی اور پانی سے پیدا بیماریوں میں کمی لائے گا، مقامی حکومتوں کی استعداد کار اور ریونیو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی، منصوبہ شہروں کو سیلاب و خشک سالی کے مقابلے کیلئے زیادہ مضبوط بنائے گا، شہروں کی پائیدار ترقی اور ماحول دوستی کے اہداف میں بھی معاون ثابت ہوگا۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ منصوبے میں خواتین کیلئے نئی بھرتیاں اور فیصلہ سازی میں نمائندگی کو ترجیح دی جائے گی، خواتین کیلئے سکل ڈویلپمنٹ اور جینڈر کمپلینٹ ڈیسک قائم کئے جائیں گے، گھریلو سطح پر بہتر صفائی و صحت کے لیے آگاہی مہمات منصوبہ کا حصہ ہے۔عالمی بینک کے مطابق نجی شعبے کی سرمایہ کاری پانی و صفائی کے شعبے میں متحرک کرنے کا ہدف ہے، منصوبہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام اور ستھرا پنجاب پروگرام کی معاونت کرے گا، صحت مند کمیونٹیز اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عالمی بینک کے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔