پنجاب حکومت کا یونیورسٹی طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ سکیم میں توسیع کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اس اسکیم میں وہ طلبہ شامل ہوں گے جو پنجاب کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخل ہیں، کم از کم 70% نمبرز یا مساوی سی جی پی اے رکھتے ہیں، اور پچھلے اجراء میں لیپ ٹاپ حاصل نہیں کر سکے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے کہا کہ ہمارا مقصد پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹی طلبہ کے درمیان ڈیجیٹل فاصلے کو کم کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے اپنی لیپ ٹاپ سکیم کو پہلی بار پرائیویٹ یونیورسٹی طلبہ تک بڑھانے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 10,000 لیپ ٹاپس اہل امیدواروں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صوبے میں پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹی طلبہ کے درمیان تعلیمی اور ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے محکمے نے تصدیق کی کہ سکیم پر کام شروع ہو چکا ہے اور اہل طلبہ کو لیپ ٹاپس کی تقسیم جلد شروع کر دی جائے گی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اہلیت کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور طلبہ کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس اسکیم میں وہ طلبہ شامل ہوں گے جو پنجاب کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخل ہیں، کم از کم 70% نمبرز یا مساوی سی جی پی اے رکھتے ہیں، اور پچھلے اجراء میں لیپ ٹاپ حاصل نہیں کر سکے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے کہا کہ ہمارا مقصد پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹی طلبہ کے درمیان ڈیجیٹل فاصلے کو کم کرنا ہے۔ اس سکیم کا دائرہ وسیع کرنا سب کیلئے مساوی تعلیمی مواقع کو یقینی بناتا ہے۔ مزید برآں، سکیم میں خواتین، معذور طلبہ اور کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کیلئے مخصوص کوٹہ بھی برقرار رکھا گیا ہے تاکہ تکنیکی وسائل تک منصفانہ رسائی کو فروغ دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرائیویٹ یونیورسٹی طلبہ سکیم میں لیپ ٹاپ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔