عنوان: *امام باقر علیہ اسلام کی فکری و عملی جدوجہد اور حقیقی اسلام کی بقاء*
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں*پروگرام دین و دنیا*
عنوان: *امام باقر علیہ اسلام کی فکری و عملی جدوجہد اور حقیقی اسلام کی بقاء*
میزبان: محمد سبطین علوی
مہمان: حجہ الاسلام والمسلمین آقای عون علوی
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات گفتگو
????امام باقر کے دوران کے سیاسی و اجتماعی حالات
????امام کی تشکیلات اور تنظیم سازی
????امام کے عملی اقدامات اور مجاہدت
خلاصہ گفتگو:
امام محمد باقر علیہ السلام کا دورِ امامت (۹۴ھ تا ۱۱۴ھ) اموی حکومت کے اختتامی سالوں پر محیط تھا، جب خلفاء کی آپسی کشمکش اور داخلی مصروفیات کی وجہ سے آلِ علیؑ پر سابقہ شدید دباؤ نسبتاً کم ہو گیا۔ اس سازگار ماحول میں امام باقرؑ نے شیعی حزبی تشکیلات اور خفیہ تنظیم سازی کا آغاز کیا۔ ان کے کارکنوں کو "اصحاب السر و رازداران" کہا جاتا تھا اور ان کے ذریعے دعوت اسلام خراسان اور دیگر دور دراز علاقوں تک پھیلی۔
امامؑ کا مرکزی فکری جہاد اموی حکمرانوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی تحریفات، جیسے جبر و مرجئہ، اور حتیٰ یہ گمراہ عقیدہ کہ امام حسینؑ کو خدا نے مارا، کے خلاف تھا۔ آپؑ نے لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات کی طرف بلایا اور علمی تحریک کو وسیع کیا۔ اس ضمن میں امام نے اپنی منی میں دس سال عزاداری کے قیام کی اجازت دی تاکہ امت امام حسینؑ کی قربانی سے آگاہ ہو اور حکومت کے ظلم و جبر کے خلاف شعور پیدا ہو۔ دمشق میں ہشام بن عبدالملک کے دربار میں حاضری بھی آپؑ کے سیاسی اور فکری موقف کی شاندار علامت تھی۔ امام باقرؑ کی یہ علمی، عملی اور تنظیمی جدوجہد واقعی فکری و تنظیمی جہاد کا مثالی دور ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام کی
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟