پاکستان اسلامی ملک، عملی طور پر یہاں انگریز کا نظام چل رہا: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وسائل پر قابض مراعات یافتہ طبقہ اور افسر شاہی ملک کو اب تک نوآبادیاتی طرز پر چلا رہے ہیں، دستوری اعتبار سے پاکستان اسلامی ملک، عملی طور پر یہاں انگریز کا نظام چل رہا ہے۔ مدارس کے معلمین ، علماء اکرام و طلبا اسلام کے جامع تصور کو عام کریں ، امت کو جوڑنا ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے دورہ کے موقع پر اساتذہ اور طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے مولانا فضل رحیم کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جامعہ اشرفیہ کے درمیان فطری تعلق ہے، بانی جماعت اسلامی سید مودودی اپنی اکثر نمازوں کا اہتمام جامعہ اشرفیہ میں کرتے تھے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطاء الرحمن، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری، ڈاکٹر نوید احمد زبیری و دیگر دورہ کے دوران امیر جماعت اسلامی کے ہمراہ تھے۔ مہتمم جامعہ مولانا ارشد عبید نے امیر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا جب کہ نائب مہتمم حافظ اسعد عبید نے انہیں دینی درسگاہ کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا۔ قاری عطاء الرحمن، قاری وقار احمد چترالی اور مفتی عمر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام دنیا پر مسلط ہے جس سے معیشت ، سیاست ، اخلاقیات سمیت ہر شعبہ تباہی کا شکار ہے، اسلامی دنیا کو تقسیم کر دیا گیا۔ ان حالات میں علماء اکرام اور دینی مدارس کے طلباء و طالبات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے ابدی پیغام کو عام کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ اسلام ہی ایسا متبادل نظام ہے جس سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔