امریکا کا ایرانی ریاستی سرپرستی میں سائبر حملوں کے مرتکبین کی معلومات دینے پر 1 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی اہم تنصیبات پر ایران سے منسلک ریاستی سرپرستی میں کیے جانے والے سائبر حملوں میں ملوث افراد کی معلومات فراہم کرنے والوں کو 1 کروڑ ڈالر (10 ملین) تک کا انعام دے گا۔ یہ انعام امریکی محکمۂ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت رکھا گیا ہے۔
انعام اس شخص یا گروہ پر لاگو ہوتا ہے جو کسی غیر ملکی حکومت کی ہدایات یا اس کے زیرِ اثر رہ کر کمپیوٹر فراڈ اینڈ ابیوز ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی اہم تنصیبات کے خلاف بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں میں شریک ہو۔
مزید پڑھیں: چین کا امریکا پر قومی ٹائم سروس سینٹر پر سائبر حملوں کا الزام
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے مرکز میں موجود نیٹ ورک ’شہید شُشتَری‘ ہے، جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سائبر الیکٹرانک کمانڈ (IRGC-CEC) کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ نیٹ ورک متعدد ناموں سے سرگرم رہا ہے، جن میں آریا سپہر آیندہ سازان (ASA)، آیندہ سازان سپهر آریا (ASSA)، امنّت پاسارگاد، ایلیانت گستَر، اور نیٹ پیگرد سماوات کمپنی شامل ہیں۔
امریکی بیان کے مطابق شہید شُشتَری نیٹ ورک نے مربوط سائبر حملوں اور معلوماتی مہمات کے ذریعے امریکی کاروباری اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کو بھاری مالی نقصان اور عملی نظام میں خلل پہنچایا۔ ان کے اہداف میں میڈیا، شپنگ، ٹریول، توانائی، مالیات اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسے اہم شعبے شامل رہے، جبکہ ان کی سرگرمیاں امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس گروہ کی نگرانی محمد باقر شیرینکار کرتے ہیں، جبکہ فاطمہ صدیقیان کاشی طویل عرصے سے اس سے وابستہ ہیں اور منصوبہ بندی و آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ دونوں باہم “قریبی تعلق” رکھتے ہیں اور مشترکہ طور پر سائبر سرگرمیوں کی قیادت کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: یورپ کے فضائی سلامتی کے نظام پر سائبر حملوں نے کی کمزرویاں بے نقاب کر دیں
شہید شُشتَری گروہ نے امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے دوران بھی ایک وسیع سائبر مہم چلائی تھی، جس میں معلوماتی حملے اور فالس فلیگ سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس سے قبل بھی گروہ اسی نوعیت کی کارروائیوں میں ملوث رہ چکا تھا جس کا مقصد عوامی رائے پر اثرانداز ہونا اور نظام میں خلل ڈالنا تھا۔
نومبر 2021 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے اس گروہ جو اُس وقت ’امنّت‘ (Emennet) کے نام سے کام کر رہا تھا، کو اس کے 6 ملازمین سمیت صدارتی حکم نامہ 13848 کے تحت بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
اسی دوران ریوارڈز فار جسٹس نے اس مداخلت میں کردار ادا کرنے والے 2 سائبر عناصر سید محمد حسین موسیٰ کاظمی اور سجاد کاشیان کو بھی نمایاں طور پر شناخت کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ASSA IRGC-CEC امریکا ایران سائبر حملوں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران سائبر حملوں سائبر حملوں
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ