وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے کہیں اور منقتلی نہیں ہوئی اور نہ ان کی صحت خراب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سہیل آفریدی نے پولیس ناکے پر دھرنا جاری

نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا اگر انہیں کہیں اور منتقل کیا جائے تو لازمی طور پر وہ بات عدالت کے علم میں لائی جائے گی۔

انہوں نے عمران خان کی خرابی صحت کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا روزانہ معائنہ کرتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ قائد ن لیگ نے ان افراد کو ذمے دار ٹھہرایا تھا جنہوں نے عمران خان کو وزیراعظم بننے میں سہولتکاری کی تھی۔

مزید پڑھیے: عمران خان کے انتقال کی افواہوں پر اداکارہ مشی خان رو پڑیں، ویڈیو وائرل

رانا ثنااللہ نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کے مطابق عمران خان کے سہولت کاروں کا ٹرائل نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کرداروں کےحوالے سے کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوگا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رانا ثنااللہ خان عمران خان عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی عمران خان کی صحت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ خان عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی عمران خان کی صحت رانا ثنااللہ عمران خان کی ان کی صحت نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف