عمران خان اڈیالہ جیل سے منتقل نہیں ہوئے نہ ہی ان کی صحت خراب ہے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے کہیں اور منقتلی نہیں ہوئی اور نہ ان کی صحت خراب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سہیل آفریدی نے پولیس ناکے پر دھرنا جاری
نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا اگر انہیں کہیں اور منتقل کیا جائے تو لازمی طور پر وہ بات عدالت کے علم میں لائی جائے گی۔
انہوں نے عمران خان کی خرابی صحت کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا روزانہ معائنہ کرتی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ قائد ن لیگ نے ان افراد کو ذمے دار ٹھہرایا تھا جنہوں نے عمران خان کو وزیراعظم بننے میں سہولتکاری کی تھی۔
مزید پڑھیے: عمران خان کے انتقال کی افواہوں پر اداکارہ مشی خان رو پڑیں، ویڈیو وائرل
رانا ثنااللہ نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کے مطابق عمران خان کے سہولت کاروں کا ٹرائل نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ ان کرداروں کےحوالے سے کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوگا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رانا ثنااللہ خان عمران خان عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی عمران خان کی صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ خان عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی عمران خان کی صحت رانا ثنااللہ عمران خان کی ان کی صحت نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔