تھائی عدالت کا مس یونیورس مقابلوں کی شریک بانی پر فراڈ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
بینکاک (ویب ڈیسک) تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے مس یونیورس کے مقابلوں کی شریک مالک اور میڈیا ٹائیکون این جکاپونگ جکرا جتاتیپ کے خلاف تقریباً 9 لاکھ 30 ہزار ڈالر کے مبینہ فراڈ کے الزامات پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق عدالت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک پلاسٹک سرجن کی شکایت پر کی گئی، جس نے جکاپونگ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2023 میں جے کے این گروپ میں سرمایہ کاری کے لیے دھوکہ دیا اور معلومات چھپائیں۔
جنوبی بینکاک سول کورٹ نے فیصلے کی سماعت کے لیے ملزمہ کو طلب کیا تھا لیکن جکاپونگ عدالت میں پیش نہ ہوئیں، جس پر عدالت نے ان کے رویے کو ’فرار ہونے کی کوشش‘ قرار دیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جکاپونگ مالی مشکلات کے تناظر میں میکسیکو فرار ہو چکی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی مس یونیورس 2025 کے بینکاک میں اختتام پذیر ہوئے، جہاں مس میکسیکو فاطمہ بوش کو فاتح منتخب کیا گیا۔
اس مقابلے میں پہلے ہی کئی تنازعات سامنے آئے تھے، جن میں مرد میزبان کی غصے میں فاطمہ بوش کو ’احمق‘ کہنے اور پروموشنل مواد نہ پوسٹ کرنے پر تنقید شامل تھی، جس کے نتیجے میں فاطمہ بوش نے دیگر شرکا کے ساتھ واک آؤٹ کر دیا تھا۔
میزبان نے بعد میں معذرت کی تھی جبکہ میکسیکن صدر کلیڈیا شینبام نے فاطمہ بوش کی حمایت کی تھی اور اب مس یونیورس تھائی لینڈ کی شریک بانی پر فراڈ کا مقدمہ سامنے آگیا۔
جکاپونگ کی کمپنی جے کے این گلوبل گروپ نے 2022 میں مس یونیورس کو 2 کروڑ ڈالر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خریدا تھا اور پھر اس کا نصف حصہ میکسیکن فرم لیگیسی ہولڈنگ گروپ کو ایک کروڑ 60 ڈالر میں بیچ دیا تھا۔
تاہم 2024 میں تھائی لینڈ اسٹاک ایکسچینج نے جے کے این کے شیئرز کو مالی رپورٹس جمع نہ کرانے اور ان میں جعلسازی کے الزامات پر ڈی لسٹ کر دیا تھا اور اب جکاپونگ پر مالی فراڈ کا کیس بھی سامنے آگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔