زیادتی کے الزام میں عمر قید پانے والے ملزم کی سزا کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں 14 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کے خلاف ملزم خدا بخش کی اپیل کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔ وکیلِ صفائی زاہد ناریجو نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرہ بچی کے طبی معائنے میں کسی قسم کے تشدد یا زبردستی کے نشانات موجود نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ بچی کے کپڑے دو دن بعد دھلے ہوئے حالت میں برآمد کیے گئے، جس کے نتیجے میں ان سے حاصل کیے گئے ڈی این اے کے نمونے قانونی اعتبار سے مشکوک ہیں۔ وکیل صفائی نے نشاندہی کی کہ ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور گواہان کے بیانات میں تضاد موجود ہے جو مقدمے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزم خدا بخش نے 2024 میں 14 سالہ بچی کو جھاڑیوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جسکا مقدمہ سجاول تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے استغاثہ اور صفائی کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ مقدمے میں شواہد کی ساکھ اور گواہیوں میں تضادات کے پیشِ نظر شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے اس بنیاد پر ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم خدا بخش کی رہائی کا حکم جاری کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔