شہری سے 80 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے والا اسی کا ڈرائیور نکلا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کراچی:
ملیر کینٹ میں مالک کو بھتے کی پرچی اور کال کر کے 80 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے والا مالک کا ذاتی ڈرائیور نکلا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ ملیر کے مطابق ملیر کینٹ پولیس نے ٹیکنیکل اور خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے مالک سے بھتہ طلب کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس نے بھتہ طلب کرنے کا مقدمہ نمبر 516 سال 2025 بجرم دفعہ 384 اور 385 تحت درج کیا تھا، گرفتار ملزم داؤد خان مدعی مقدمہ کا ذاتی ڈرائیور ہے جس نے اپنے ہی مالک کو فون کال اور بھتے کی پرچی کے ذریعے 80 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا اور نہ دینے پر انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔
گرفتار ملزم نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا ہے تاہم گرفتار ملزم کے خلاف ضابطے کے تحت قانونی کارروائی مکمل کر کے اسے مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھتہ طلب کرنے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔