کراچی کے کن علاقوں میں صبح سے 12 گھنٹوں کیلیے پانی کی فراہمی متاثر ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
دھابیجی سب اسٹیشن اور گرڈ اسٹیشن پر سالانہ مرمتی کام کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں کل 12 گھنٹے تک پانی کی سپلائی معطل رہے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کے الیکٹرک نے دھابیجی سب اسٹیشن اور گرڈ اسٹیشن پر سالانہ مینٹیننس کے لیے باضابطہ شٹ ڈاؤن کی درخواست کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو ارسال کردی۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے سالانہ مینٹیننس کام 27 نومبر، جمعرات کو صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے مختلف فیڈرز پر بجلی کی فراہمی جزوی طور پر معطل رہے گی۔
ترجمان واٹرکارپوریشن نے بتایا کہ شٹ ڈاؤن کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی میں تقریباً 100 ملین گیلن کمی متوقع ہے۔ جس کے باعث لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل، ڈی ایچ اے، چنیسر ٹاؤن، جناح ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ ٹاؤن میں پانی کی فراہمی جزوی طور پر متاثر ہوگی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ شہر کو دھابیجی سے یومیہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم متوقع کمی کے باوجود تقریباً 550 ملین گیلن پانی کی فراہمی جاری رہے گی۔
واٹر کارپوریشن نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ممکنہ عارضی پانی کی قلت کے پیشِ نظر پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پانی کی فراہمی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔