کراچی کو رواں ماہ 88 کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا رہا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں واٹر کارپوریشن نے نومبر میں پانی کی کمی اور بجلی بندش کے اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی بندش کے باعث 88 کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہوا۔ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق دھابیجی میں کل 132 گھنٹے 20 منٹ کی بجلی معطلی سے 42 کروڑ گیلن پانی کی کمی ہوئی جبکہ ڈملوٹی میں 146 گھنٹے کی بجلی معطلی سے 111 ملین گیلن پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ترجمان کے مطابق نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن میں 335 ملین گیلن پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی، اسی طرح حب اور پپری پمپنگ اسٹیشنز میں 66 لاکھ گیلن پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی۔واٹر کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق گھارو پمپنگ اسٹیشن میں 20 لاکھ گیلن پانی کی کمی کا سامنا رہا۔ترجمان کے مطابق نومبر میں مسلسل بجلی کی بندش سے مرکزی پمپنگ اسٹیشنز پر آپریشن کئی گھنٹے رکا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیلن پانی کی کمی کے مطابق
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔