پاکستان میں اگلے سال تک سولر پینلز کی بجلی نیشنل گرڈ سے تجاوز کرجائیگی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان قابل تجدید توانائی کے شعبےمیں ترقی پزیرممالک کےلیےمثال بن گیا،آئندہ سال پاکستان کے انڈسٹرئیل زونز میں دن کے وقت سولر پینلز سے بننے والی بجلی نیشنل گرڈ سے تجاوز کرے گی۔
خبر رساں ادارےکی رپورٹ کےمطابق سولرپینلز سے بجلی کی پیداوارمیں لاہور سب سے آگے ہیں،فیصل آباد دوسرے اور سیالکوٹ تیسرے نمبر پر ہے،رپورٹ کےمطابق پاکستان نیشنل گرڈ سے زیادہ سولر پینلز سے بجلی بنانے والا پہلا ترقی پزیر ملک بنے گا۔
سولرپینلزکی وجہ سے کاربن کےاخراج اور بلوں میں کمی آئی ہے،تاہم ڈیمانڈمیں کمی کی وجہ سے یوٹیلٹی کمپنیوں کو نقصان کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔