سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی کی سرِ عام بیلٹ پیپر پر مہر لگانے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
عابد شیر علی نے انتخابی عملے اور کئی افراد کی موجودگی میں شیر کے نشان پر مہر ثبت کی—ویڈیو گریب
فیصل آباد میں سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی کی سرِ عام بیلٹ پیپر پر مہر لگانے کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔
انتخابی ضابطۂ اخلاق کے مطابق بیلٹ پیپر پر مہر ووٹنگ شیلڈ کے عقب میں جا کر لگانا لازمی ہے، تاہم عابد شیر علی نے انتخابی عملے اور کئی افراد کی موجودگی میں شیر کے نشان پر مہر ثبت کی۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے آج پولنگ ہوئی ہے۔
ہری پور، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، میانوالی اور مظفر گڑھ میں ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
مظفر گڑھ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر بےنظمی کے باعث پولنگ کا عمل کچھ دیر معطل رہنے کے بعد بحال کر دیا گیا۔
جڑانوالا میں این اے 96 اور فیصل آباد کے حلقے پی پی 98 میں انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی، ووٹرز کی بیلٹ پیپر پر مہر لگانے کی وڈیوز وائرل ہو گئیں۔
الیکشن کمشنر نے عملے کو ووٹر کو موبائل فون اندر نہ لے جانے اور ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیلٹ پیپر پر مہر عابد شیر علی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔