جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
جنوبی افریقہ میں شروع ہونے والے جی-20 اجلاس میں بعض رکن ممالک نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کردہ امن منصوبے پر غور کیا۔ اجلاس جمعہ اور ہفتہ کو جوہانسبرگ میں منعقد ہوا، جبکہ امریکا نے جنوبی افریقہ کی پالیسیوں کی وجہ سے بائیکاٹ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
نیو یارک ٹائمز کے مطابق پیش کردہ 28 نکاتی منصوبے میں یوکرینی قیادت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ روس کے زیر قبضہ علاقے تسلیم کرے اور اپنی فوجی طاقت کو محدود کرے، جسے یوکرین نے پہلے مسترد کر دیا تھا۔
دی گارڈین کے مطابق منصوبے کے تحت روس کو مشرقی ڈونباس کے بعض علاقوں کا کنٹرول دیا جائے گا اور یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کے امکانات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو پیش کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ اگلے ہفتے تک اس کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ’یوکرین کو اب روس سے امن معاہدہ کرنا پڑے گا‘، جنگ بندی کی امیدیں معدوم ہونے پر صدر ٹرمپ کی ’کمزور‘ کو نصیحت
جی-20 اجلاس میں شریک یورپی رہنماؤں نے ایک علیحدہ اجلاس میں منصوبے کا جائزہ لیا اور کہا کہ اسے ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ منصوبے میں بعض اہم عناصر شامل ہیں جو منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ضروری ہوں گے، لیکن یہ ابتدائی بنیاد ہے اور مزید کام درکار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرحدیں طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں ہونی چاہئیں۔ برطانیہ، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے، اسپین اور یورپی یونین کے نمائندوں نے اس بیان پر دستخط کیے۔
اجلاس میں کئی ممالک نے منصوبے پر غور کیا، جبکہ جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا نے دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے اس اجلاس کا افتتاحی خطاب کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنوبی افریقہ میں جی-20 کے اجلاس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتیں پائیدار ترقی کی حمایت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کو دھچکا، نیٹو ممبر کا منجمند روسی اثاثوں پر یوکرین کو قرض دینے سے انکار
انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ بھارت کی تہذیبی اقدار، خاص طور پر جامع انسانیت کے اصول، ترقی کی راہ دکھا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ اجلاس میں کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔