پی ٹی آئی کا دور حکومت ملکی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا ، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا جاتا ہے، جس میں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور مہارت کے بجائے صرف گالی گلوچ کی سیاست سکھائی گئی،ایک ’اناڑی شخص‘ کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پاکستان کی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے اپنے کارکنوں کو گالی گلوچ کا شعور دیا، اپنے دور کا ایک ترقیاتی منصوبہ دکھا دیں، احسن اقبال
ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو نارووال میں پنجاب ٹریکٹر سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے بانی پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا گیا، اس کے خلاف سازش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں ایک اناڑی شخص کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پاکستان کی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا جاتا ہے،جس میں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور مہارت کے بجائے صرف گالی گلوچ کی سیاست سکھائی گئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر پہلے ہی لکھا تھا کہ اگر اس شخص نے ان پر بہتان لگایا تو اللہ اسے نشان عبرت بنائے گا اور آج وہ شخص اڈیالہ جیل میں عبرت کا نشان بن کر بیٹھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الزام تراشی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، پی ٹی آئی کا احسن اقبال کے بیان پر ردعمل
انہوں نے کہا کہ 190 ملین پائونڈ کے کیس میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کو 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، جس کے بعد وہی پیسہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی میں آج بھی قیدی نمبر 804 کے نعرے لگاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیدی نمبر 420 ہے کیونکہ اس نے ملک سے دھوکہ دہی کی ہے۔
’وزیراعظم ہائوس میں بکروں کی سریاں جلائی جاتی تھیں‘وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کا جیل نمبر تبدیل کرکے 804 کے بجائے 420 کر ے۔احسن اقبال نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں ملک کا انتظام توہم پرستی، ٹونے ٹوٹکے اور کالے جادو سے چلایا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہائوس میں بکروں کی سریاں جلائی جاتی تھیں اور ملک کی پالیسیوں کا انحصار فال نکالنے پر تھا، جو ایک ایٹمی طاقت کے لیے باعث شرم ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جو لوگ ایسے مداری گر کے پیچھے چلتے ہیں، انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے کبھی یونین کونسل تک نہیں چلائی، وہ نیا پاکستان بنانے چلا تھا اور آج 14 سال کی سزا کے بعد جیل میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’غریب کا بیمار ہونا بھی دشوار‘، احسن اقبال کو اپنی پرانی پوسٹ پر تنقید کا سامنا کیوں؟
احسن اقبال نے پی ٹی آئی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں سزا یافتہ شخص کی رہائی کے نعرے لگانا بے شرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کے لیڈر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا “ڈاکو” قرار دیا جا چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ ملک کے ساتھ مبینہ دھوکہ دہی کے پیش نظر بانی پی ٹی آئی کا جیل نمبر 420 رکھ دیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احسن اقبال پی ٹی آئی حکومت قیدی نمبر 420 قیدی نمبر 804.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال پی ٹی ا ئی حکومت انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی وفاقی وزیر نے احسن اقبال نے پاکستان کی تاریخ کا
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ