امریکی دعوے مطابق جوہری تنصیبات تباہ ہوگئیں تو تلاشی کس بات کی، ایران
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
تہران (ویب ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ اگر امریکا کے دعوے کے مطابق جوہری تنصیبات تباہ ہوگئیں تو تلاشی کس بات کی۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکا کے مطالبات سے ظاہر ہے ایران کا جوہری پروگرام تکنیکی نہیں، سیاسی مسئلہ ہے، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سیاسی تنازعات کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
انھوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی کے کام کو روکنا یا ختم کرنا امریکا کا پہلا مطالبہ ہے۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران کے لیے ایٹمی صنعت کے بغیر مستقبل کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہے، ایران پانی بحران کے حل کیلئے ایٹمی ڈسٹلیشن پلانٹ قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔