امریکا نے 4 یورپی تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
امریکا نے یورپ کی 4 تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا ہے۔
ریشیا ٹوڈے کے مطابق واشنگٹن نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ یورپ میں سرگرم 4 اینٹیفا تنظیموں کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے۔ یہ اقدام امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشدد کی لہر سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ بتایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے شامی صدر پر عائد پابندیاں ہٹا دیں، اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ متوقع
ستمبر میں امریکی حکومت پہلے ہی ملک میں موجود اینٹیفا نیٹ ورک کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکی ہے، جب ایک قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کے بعد اس معاملے میں پیشرفت ہوئی تھی۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق جن یورپی تنظیموں کو اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ کا درجہ دیا جارہا ہے، ان میں جرمنی کی اینٹیفا اوسٹ، اٹلی کی انفارمل اینارکسٹ فیڈریشن انٹرنیشنل ریولیوشنری فرنٹ، جبکہ یونان کی 2 تنظیمیں آرمڈ پرو لیٹیرین جسٹس اور ریولیوشنری کلاس سیلف ڈیفینس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: داعش خراسان خطے کی سیکیورٹی کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟
تمام 4 تنظیموں کو آئندہ ہفتے فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشنز کی فہرست میں بھی شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد ان گروہوں کے تمام مالی اثاثے منجمد ہو جائیں گے، ان کے ساتھ مالی لین دین ممنوع ہوگا، ان کے ارکان کا امریکا میں داخلہ بند ہو جائے گا اور کسی قسم کی حمایت فراہم کرنا سنگین جرم تصور ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق اینٹیفا اوسٹ جرمنی میں 2018 سے 2023 کے دوران متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے اور 2023 میں بڈاپسٹ میں کیے گئے حملوں سے بھی اس کا تعلق جوڑا گیا ہے۔ ہنگری پہلے ہی اسے دہشتگرد گروہ قرار دے چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اندر دہشتگرد حملوں میں ٹی ٹی پی کے کردار سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اہم انکشافات
دیگر تین یورپی تنظیموں پر اٹلی اور یونان میں سیاسی، سرکاری اور معاشی اداروں کے خلاف دھماکوں اور دھمکی آمیز اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنے کے الزامات بھی سامنے آچکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اینٹیفا ایک ڈھیلا ڈھالا بائیں بازو کا نیٹ ورک ہے جو اکثر سیاہ لباس اور ماسک کے ساتھ احتجاج اور مظاہرے کرتا ہے۔ یہ گروہ 2020 کے جارج فلوئیڈ احتجاج کے دوران خاص طور پر نمایاں ہوا تھا اور مختلف مواقع پر پولیس، صحافیوں اور دائیں بازو کے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا دہشتگرد قرار یورپی تنظیمیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا دہشتگرد قرار یورپی تنظیمیں تنظیموں کو کو دہشتگرد
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔