WE News:
2026-06-02@22:47:26 GMT

امریکا نے 4 یورپی تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

امریکا نے 4 یورپی تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا

امریکا نے یورپ کی 4 تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا ہے۔

ریشیا ٹوڈے کے مطابق واشنگٹن نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ یورپ میں سرگرم 4 اینٹیفا تنظیموں کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے۔ یہ اقدام امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشدد کی لہر سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ بتایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے شامی صدر  پر عائد پابندیاں ہٹا دیں، اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ متوقع

ستمبر میں امریکی حکومت پہلے ہی ملک میں موجود اینٹیفا نیٹ ورک کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکی ہے، جب ایک قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کے بعد اس معاملے میں پیشرفت ہوئی تھی۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق جن یورپی تنظیموں کو اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ کا درجہ دیا جارہا ہے، ان میں جرمنی کی اینٹیفا اوسٹ، اٹلی کی انفارمل اینارکسٹ فیڈریشن انٹرنیشنل ریولیوشنری فرنٹ، جبکہ یونان کی 2 تنظیمیں آرمڈ پرو لیٹیرین جسٹس اور ریولیوشنری کلاس سیلف ڈیفینس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: داعش خراسان خطے کی سیکیورٹی کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟

تمام 4 تنظیموں کو آئندہ ہفتے فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشنز کی فہرست میں بھی شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد ان گروہوں کے تمام مالی اثاثے منجمد ہو جائیں گے، ان کے ساتھ مالی لین دین ممنوع ہوگا، ان کے ارکان کا امریکا میں داخلہ بند ہو جائے گا اور کسی قسم کی حمایت فراہم کرنا سنگین جرم تصور ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق اینٹیفا اوسٹ جرمنی میں 2018 سے 2023 کے دوران متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے اور 2023 میں بڈاپسٹ میں کیے گئے حملوں سے بھی اس کا تعلق جوڑا گیا ہے۔ ہنگری پہلے ہی اسے دہشتگرد گروہ قرار دے چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اندر دہشتگرد حملوں میں ٹی ٹی پی کے کردار سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اہم انکشافات

دیگر تین یورپی تنظیموں پر اٹلی اور یونان میں سیاسی، سرکاری اور معاشی اداروں کے خلاف دھماکوں اور دھمکی آمیز اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنے کے الزامات بھی سامنے آچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اینٹیفا ایک ڈھیلا ڈھالا بائیں بازو کا نیٹ ورک ہے جو اکثر سیاہ لباس اور ماسک کے ساتھ احتجاج اور مظاہرے کرتا ہے۔ یہ گروہ 2020 کے جارج فلوئیڈ احتجاج کے دوران خاص طور پر نمایاں ہوا تھا اور مختلف مواقع پر پولیس، صحافیوں اور دائیں بازو کے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا دہشتگرد قرار یورپی تنظیمیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا دہشتگرد قرار یورپی تنظیمیں تنظیموں کو کو دہشتگرد

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی