بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ 22 نومبر سے کسی بھی ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈر کیلئے ایران میں داخل ہونے یا ٹرانزٹ کیلئے ویزا حاصل کرنا لازمی ہوگا۔۳وع اسلام ٹائمز۔ ایران نے عام بھارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے ویزا سے استثنیٰ معطل کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ فیصلہ 22 نومبر سے نافذ العمل ہوگا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کا فیصلہ بھارتیوں کے بہترین مفاد میں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بہت سے ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جہاں بھارتیوں کو لالچ دے کر ایران لے جایا گیا اور وہ وہاں پھنس گئے۔ ان سے روزگار کے جھوٹے وعدے کئے گئے اور دیگر ممالک میں واپسی کا بھی وعدہ کیا گیا۔ بھارتی وزارت نے کہا کہ حکومت کی توجہ ایسے واقعات کی طرف مبذول کرائی گئی۔ اس کے بعد وزارت نے بات چیت کی اور بعد میں یہ فیصلہ لیا گیا۔

رندھیر جیسوال نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ ہندوستانیوں کو ایران سے وطن واپسی کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے 22 نومبر سے ایران کا سفر کرنے والے عام ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا کی استثنیٰ کو معطل کر دیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ اس فیصلے کو اس نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیئے، نہ کہ کسی دوسرے نقطہ نظر سے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ فیصلہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے لیا ہے کہ کوئی بھی مجرمانہ عناصر ہندوستانیوں کو گمراہ نہ کر سکیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ 22 نومبر سے کسی بھی ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈر کے لئے ایران میں داخل ہونے یا ٹرانزٹ کے لئے ویزا حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ واضح رہے کہ ایران نے فروری 2024ء میں بھارتی سیاحوں کے لئے ویزا کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا تھا، اس کے تحت ہندوستانی سیاح 6 ماہ کے اندر بغیر ویزا کے ایران کا سفر کرسکتے ہیں اور 15 دن تک ایران میں قیام بھی کرسکتے ہیں۔ اپنے بیان میں وزارت نے کہا کہ ہر بھارتی شہری کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور کوئی بھی ایجنٹ یا ایجنسی جو ایران میں ویزا فری سفر کا انتظام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہ جھوٹ پر مبنی ہے بلکہ اس سے واضح طور پر گریز کیا جانا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لئے ویزا ایران میں نے کہا کہ کہ ایران

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی