Jasarat News:
2026-07-24@04:04:20 GMT

آئینۂ کشمیر!!! کشمیر پر حماقتوں اور مغالطوں کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251113-03-5
بھارت پانچ اگست 2019 کے بعد سے مسئلہ کشمیر کو یک طرفہ طور پر ختم کرچکا ہے۔ ایسا نہیں کہ بھارت نے پہلی بار مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے انکار کیا ہو۔ عرصہ دراز سے بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے کسی معنی خیز عمل کا حصہ بننے سے انکار کی مستقل پالیسی کو ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی اصطلاح میں لپیٹ رکھا تھا مگر اٹوٹ انگ کی رٹ لگانے کے باوجود بھارتی حکمران ’’اگر مگر‘‘ کے ساتھ کشمیر پر کسی نہ کسی سمجھوتے کے عمل میں شریک رہ کر عملی طور پر کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اس پالیسی کی قالین ہی اْلٹ ڈالی ہے اور اب وہ کشمیر کے مسئلے کے وجود ہی سے انکاری ہو کر پاکستان کے ساتھ کسی سفارتی سرگرمی اور مذاکرات سے گریز کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ صرف کشمیر کی متنازع حیثیت سے انکار ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ کشمیریوں کا الگ وجود ثقافت اور شناخت بھی اب داؤ پر لگ چکی ہے۔ بھارت کے اس کوتاہ اندیشانہ اور یک طرفہ نکتہ نظر کے باوجود کشمیر نہ صرف ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے بلکہ اس کی متنازع حیثیت کی حقیقت بھی اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس حوالے سے تحقیقی علمی اور فکری کام بھی جا ری ہے۔ آزادکشمیر عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی کی تازہ تصنیف ’’آئینہ کشمیر‘‘ بھی اسی کام کا ایک تسلسل ہے۔

جسٹس سید منظور حسین گیلانی کی زندگی کا ایک اہم اور ابتدائی حصہ سری نگر میں گزرا۔ علی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کشمیر میں وکالت شروع کی۔ ستر کی دہائی میں ویزے پر آزادکشمیر میں مقیم اپنے والدین اور عزیزو اقارب سے ملنے آئے تو پھر یہیں کے ہو کر رہے۔ عملی زندگی کے سفر میں آزاد جموں وکشمیر عدالت عظمیٰ کے قائم قام چیف جسٹس تک جا پہنچے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ سیاسی مبصر اور کالم نگار کے طور پر بھی متحرک ہیں۔ جسٹس گیلانی کی تازہ تصنیف مسئلہ کشمیر کے تاریخی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے حال اور مستقبل کے منظرنامے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مصنف جب ماضی میں جھانکتے ہیں تو پاکستان کی کشمیر پالیسی پر قدم قدم پر جھول اور کمزوریاں نظر آتی ہیں جو قوت ارادی کی کمی سے پھوٹتی ہیں۔ یہ رویے صرف کشمیر کی حد تک ہی غالب نہیں بلکہ پاکستان کے کارپردازان کے یہ رویے خود پاکستان کے ساتھ اپنائے ہوئے نظر آتے ہیں جس کا نتیجہ اٹھتر سال بعد بھی بے سمتی اور غیر یقینی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ کتاب میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، امریکا میں مقیم کشمیری راہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی، پیپلزپارٹی کے راہنما فرحت اللہ بابر، معروف صحافیوں مجیب الرحمان شامی، حبیب اکرم، سابق بیوروکریٹ افضل علی شگری، سابق سفیر ڈاکٹر شاہد حشمت اور آزاد منش کشمیری دانشور مرتضیٰ شبلی کے تبصرے بھی شامل ہیں۔ ان میں خورشید قصوری چونکہ مسئلہ کشمیر کے ایک اہم موڑ کے واقف حال اور چشم دید گواہ ہیں اس لیے ان کے تبصرے کے اندر کئی خبریں اور انکشافات موجود ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب مشرف من موہن پیس پروسیس کے تحت دونوں ممالک کشمیر پر ایک حتمی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے تھے کہ پاکستان میں وکلا تحریک نے سارا منظر بدل ڈالا اور یوں یہ لمحہ جسے دونوں ملکوں کی قیادت ہاتھ میں لینے کے قریب پہنچ چکی تھی بہت دور چلا گیا اور پھر لمحہ ٔ موجود کا وہ پنچھی اتنا دور نکل گیا کہ دوبارہ ہاتھ نہ آسکا۔

خورشید محمود قصوری نے اس سمجھوتے کے گیارہ نکات بیان کیے ہیں جس کو عرف عام میں مشرف کا چار نکاتی فارمولہ کہا جاتا ہے۔ یہ تمام نکات اس قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ اس کے بعد مسئلہ کشمیر کا حتمی یا کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل محض چند گام کی دوری پر رہ جاتا ہے۔ اس پر من وعن عمل سے کشمیر حقیقت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے میدان کے بجائے دوستی کا ایک پل بنتا ہو نظر آرہا ہے۔ شاید خطے کی سیاست کو کنٹرول کرنے والی طاقتوں کو اس مرحلے پر برصغیر میں ایسا آئیڈیل ماحول درکار نہیں تھا۔ خورشید قصوری کے بیان کردہ نکات میں نواں نکتہ منقسم کشمیر کی ممکنہ خدوخال کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایل او سی۔۔۔ نقشے پر ایک خط؛ بھارت کے اس موقف پر کہ سرحد تبدیل نہیں ہو سکتی پاکستان نے یہ جواب دیا کہ اس صورت میں سرحد کشمیریوں کے مابین موجود نہیں رہے گی اور یہ کہ ان کے لیے ایل او سی کے دوسری جانب سفر کرنے کی غرض سے ویز ایا پاسپورٹ ضروری نہیں ہوگا۔ اس طرح عملی طور پر ایل او سی نقشے پر ایک خط کے طور پر موجودہوگی‘‘۔

عملی طور پر معاملات خورشید قصوری کے اس بیان کردہ نکتے ہی کے تحت جاری تھے کیونکہ کشمیر کے منقسم خاندانوں کو ویزے پاسپورٹ کی پابندی سفر کی آزادی حاصل ہو چکی تھی اور کنٹرول لائن ان کے لیے حد ِ متارکہ جنگ یا محض ایک لکیر تھی جس کو عبور کرنے کے لیے انہیں محض مقامی انتظامیہ کی سفری دستاویزات درکارہوتی تھیں۔ اس سے یہ افسوسناک حقیقت بھی سامنے آتی ہے یہ سارا عمل اب رول بیک ہوچکا ہے۔ جسٹس گیلانی نے اپنی کتاب میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف ادوار میں زیر گردش تجاویز کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ کتاب میں خورشید قصوری کے موقف کو بھارتی سفارت کار جتندر لانبا کی کتاب’’امن کی تلاش‘‘ کے اس اقتباس سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاہدہ دستخطوں کے لیے تیار تھا لیکن دونوں ملکوں کے لیڈروں کی اقتدار سے محرومی کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہو سکا۔ مودی نے برسر اقتدار آنے کے بعد اس عمل کو آگے بڑھانے کی یوں کوشش کی کہ انہوں نے 2017 میں انہی جتندر لامبا کو وزیر اعظم نوازشریف کے نام ایک ذاتی خط دے کر پاکستان بھیجا اسی عرصہ کے دوران مودی کا خصوصی ایلچی اپنا جہاز لے کر نواشریف سے ملنے چلا گیا۔ جس کے بعد ایک ہی کام کے لیے دو نمائندوں کے ملنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔ جسٹس گیلانی کی کتاب میں انکشاف کیا گیا۔ یہ آمدو رفت بھی ایک معاہدے کا مسودہ لے کر جاری تھی۔ اس معاہدے کا مسودہ نریندر مودی نے بھی دیکھا تھا۔ ایس کے لانبا کے مطابق سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ امکانات موجود ہیں اصول اور معاہدے کا مسودہ بھی موجود ہے جو دونوں اطراف جب محسوس کریں اس پروسیس کو بحال کر سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں جسٹس گیلانی پرامید ہیں کہ پاکستان میں ایک مستحکم نظام حکومت قائم ہوتے ہی حالات دوبارہ اسی نہج کی طرف جا سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ غیر مستحکم پاکستان کے ساتھ اپنے دوست بھی مطمئن نہیں دشمن کہاں ہوسکتے ہیں اس لیے پاکستان میں مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے جسٹس گیلانی پاکستان کے گیلانی کی کتاب میں کشمیر کی کے ساتھ کے بعد کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو