آرٹیکل 63-اے خودکار نہیں، مکمل قانونی طریقہ کار سے لاگو ہوتا ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینیٹ میں قائد ایوان اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر علی ظفر قابلِ احترام ہیں، ان کے والدِ گرامی کے ساتھ بھی طویل عرصہ پارلیمنٹ میں کام کیا۔ تاہم، اگر ہم پرانی باتوں کا حساب کھولیں تو اس کی کوئی حد نہیں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد تحریک کے وقت آئینی و پارلیمانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو اچانک تحلیل کیا گیا۔ اُس وقت اسپیکر نے ایک ماہ تک اجلاس بلانے کی زحمت بھی نہیں کی۔ “غلطیوں سے درستیاں پیدا نہیں ہوتیں،” انہوں نے کہا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور ہو چکی ہے اور قومی اسمبلی میں کچھ تکنیکی اصلاحات کے بعد دوبارہ پیش کی گئی۔ آرٹیکل 6 میں جو اہم کمی تھی، اسے اب درست کیا گیا ہے، جس سے آئینی عمل مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ “جب پنجاب حکومت گرانے کی بات آتی ہے تو عدلیہ کی مداخلت دکھائی نہیں دیتی، مگر جب سیاسی مفاد ہو تو فیصلے بھی اسی کے مطابق آتے ہیں۔ اگر آئین کہتا ہے کہ ووٹ کاؤنٹ ہوگا، تو پھر سزا بھی اسی کے مطابق ہونی چاہیے۔”
اسحاق ڈار نے کہا کہ آئین کے مطابق آرٹیکل 63-اے خود بخود لاگو نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ایک مکمل قانونی عمل ہے۔ پارٹی سربراہ کو تحریری طور پر اطلاع دینا، تصدیق کے بعد الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجنا — یہ سب آئینی تقاضے ہیں۔ “اگر کسی رکنِ پارلیمان کا ضمیر کہتا ہے کہ اسے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا ہے تو دے سکتا ہے، لیکن پھر اس کی ایک قیمت ہے — یعنی نشست سے ہاتھ دھونا۔”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان اگر واقعی آئینی عمل پر یقین رکھتے تو کمیٹی اجلاسوں میں شرکت کرتے اور اصلاحی تجاویز دیتے، مگر بدقسمتی سے وہ صرف بیانیہ بنانے پر اکتفا کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ “ہمیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ اسے تقسیم کرنا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن آئین اور قانون سب سے بالاتر ہیں۔”
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا اسحاق ڈار نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔